روسیا صدر امریکہ

روسی صدر ولا دیمیر پوٹن نے کہا ہے کہ اگر مغرب نے ’ریڈ لائن‘ عبور کی تو روس بلا تاخیر بہت سخت ردعمل دے گا۔روسی صدر کا یہ بیان قوم سے سالانہ خطاب میں اس وقت سامنے آیا ہے جب روس کی پیوٹن کے ناقد الیکسی ناوالنی کو جیل بھیجنے، امریکی صدارتی الیکشن میں روسی مداخلت کے الزامات اور یوکرائن کے معاملے پر مغرب کے ساتھ کشیدگی چل رہی ہےقوم سے خطاب میں انہوں نےیوکرائن، بیلاروس اور روس میں عدم استحکام کا موردِ الزام مغرب کو ٹہرایا۔ پوٹن کا کہنا تھا کہ مغربی طاقتیں مستقل روس کو پریشان کرنے کی کوششیں کر رہی ہیں۔روس پر پابندیاں امریکا میں ہونے والے سائبر حملوں اورصدارتی انتخابات میں مداخلت کے جواب میں عائد کی گئی ہیں۔ امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سولر ونڈز کے نام سے مشہور ہیکنگ کی اس کارروائی میں روسی ہیکرز نے بڑے پیمانے پر نقصان دہ کوڈز کے ساتھ سافٹ ویئرز استعمال تھے جس سے انہیں امریکا کی کم از کم نوایجنسیوں کے نیٹ ورک اور خفیہ معلومات تک رسائی ملی تھی۔روسی صدر کا یہ بیان قوم سے سالانہ خطاب میں اس وقت سامنے آیا ہے جب روس کی پیوٹن کے ناقد الیکسی ناوالنی کو جیل بھیجنے، امریکی صدارتی الیکشن میں روسی مداخلت کے الزامات اور یوکرائن کے معاملے پر مغرب کے ساتھ کشیدگی چل رہی ہے۔ولا دیمیر پوٹں نے قوم سے خطاب میں روس میں کورونا کے خلاف جنگ اور ملک کی معاشی بہتری کے منصوبوں کا بھی ذکر کیا۔

پاک ایران

نیوزی لینڈ میں ’’ڈائنگ آرٹ‘‘ نامی ایک ادارے کی وجہ شہرت وہاں بنائے جانے والے خوبصورت اور دیدہ زیب تابوت ہیں،لیکن تابوت کس مقصد کے تحت بنائے جاتے ہیں،دیکھ کر آپ خود بھی دنگ رہ جائینگے،دیکھئیے اس رپورٹ میں
آکلینڈ میں واقع یہ ادارہ، راس ہال نامی ایک صاحب کی ملکیت ہے، جن کا کہنا ہے کہ کسی بھی شخص کی آخری رسوم ویسے ہی دکھ اور تکلیف کا باعث ہوتی ہیں لہذا کچھ دلچسپ اور الگ ان رسومات میں دکھ کا تاثر ختم کرنے کی کوشش کرنے میں کوئی برائی نہیں۔
دلچسپی کی بات ہے کہ مرنے والے شخص نے یہ تابوت اپنی زندگی میں ہی ’’آرڈر پر‘‘ بنوا لیا تھا کیونکہ وہ کینسر کی آخری اسٹیج پر پہنچ چکا تھا اور ڈاکٹر اسے جواب دے چکے تھے۔راس ہال کے شو روم میں گاہکوں کی توجہ کےلیے طرح طرح کے ’’ڈیزائنر تابوت‘‘ رکھے گئے ہیں جن میں ڈیری ملک چاکلیٹ، لیگو ٹوائے اور اسٹار ٹریک، رنگین پھولدار کشتیوں، آگ بجھانے والی گاڑی اور مصری ممیوں کی تھیم والے تابوتوں کے علاوہ اپنی من پسند تھیم کے حساب سے تابوت بنوانے کی سہولت بھی موجود ہے۔ان تابوتوں کے بارے میں راس ہال نے بتایا کہ یہ سب کے سب ماحول دوست اور حیاتی تنزل پذیر (بایو ڈیگریڈیبل) مادّوں سے بنائے جاتے ہیں جو زمین میں دفن کرنے کے چند مہینوں بعد ہی گل کر مٹی میں مل جاتے ہیں مشرقی ممالک کے برعکس ’’ڈیزائنر تابوتوں‘‘ کا یہ کام حصولِ ثواب کےلیے نہیں بلکہ باقاعدہ کاروبار کی حیثیت سے کیا جاتا ہے۔اگرچہ ایسے ایک تابوت کی کم از کم قیمت 2500 نیوزی لینڈ ڈالر (تقریباً ڈیڑھ لاکھ پاکستانی روپے) کے لگ بھگ ہوسکتی ہے لیکنڈیزائن کی نوعیت اور نفاست کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ بہت زیادہ بھی ممکن ہے۔یہاں میتوں کےلیے ’’ڈیزائنر تابوت‘‘ آرڈر پر تیار کیے جاتے ہیں!خوبصورت اور دیدہ زیب تابوت ہیں جو کسی بھی مرنے والے کی آخری رسومات میں خوشیوں کے رنگ بھر سکتے ہیں پاکستان اور ایران کے درمیان بین السرحدی تجارتی منڈیوں کے قیام پر مفاہمتی یادداشت(ایم او یو ) پر دستخط ہوگئے۔سرحدی مقامات پر تین تجارتی منڈیوں کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔پاک، ایران سرحد پر تجارتی مراکز کا قیام دونوں ممالک کے لیے یکساں طور مفید ثابت ہوگا ایرانی وزارتِ خارجہ میں پاکستان اور ایران کے مابین سرحدی تجارتی مراکز (Border Market places) کھولنے کے حوالے سے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تقریب ہوئی جس میں پاکستان کی جانب سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی جب کہ ایران کی طرف سے ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے دستخط کیے۔ایم او یو کے مطابق پاکستان اور ایران کے’ بارڈر ایریاز ‘ میں 6 تجارتی مراکز کھولے جائیں گے جو کہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان اور ایران کے صوبہ سیستان و بلوچستان کی سرحد پر قائم کیے جائیں گے۔پہلے مرحلے میں سرحدی مقامات پر تین تجارتی منڈیوں کا قیام عمل میں لایا جائے گا، تین دیگر سرحدی مقامات پر بعد میں مشترکہ بازار قائم کیے جائیں گے،ان منڈیوں کا انتظام دونوں ملکوں کے مابین طے کردہ معاہدوں اور طریقہ کار کے تحت ہوگا۔اس موقع پر شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاک، ایران سرحد پر تجارتی مراکز کا قیام دونوں ممالک کے لیے یکساں طور مفید ثابت ہوگا۔سرحدی علاقے کے مکینوں کی معاشی حالت بہتر بنانےکےلیے یہ ایک انتہائی مؤثر اقدام ہے۔
پاکستان اور ایران کے مابین بارڈر مارکیٹس کھولنے کی تجویز وزیر اعظم عمران خان نے 2019 میں اپنے دورہ ایران کے وقت ایران کے صدر روحانی کے ساتھ ملاقات کے دوران پیش کی تھی۔

نیوزی لینڈ

نیوزی لینڈ میں ’’ڈائنگ آرٹ‘‘ نامی ایک ادارے کی وجہ شہرت وہاں بنائے جانے والے خوبصورت اور دیدہ زیب تابوت ہیں،لیکن تابوت کس مقصد کے تحت بنائے جاتے ہیں،دیکھ کر آپ خود بھی دنگ رہ جائینگے،دیکھئیے اس رپورٹ میں
آکلینڈ میں واقع یہ ادارہ، راس ہال نامی ایک صاحب کی ملکیت ہے، جن کا کہنا ہے کہ کسی بھی شخص کی آخری رسوم ویسے ہی دکھ اور تکلیف کا باعث ہوتی ہیں لہذا کچھ دلچسپ اور الگ ان رسومات میں دکھ کا تاثر ختم کرنے کی کوشش کرنے میں کوئی برائی نہیں۔
دلچسپی کی بات ہے کہ مرنے والے شخص نے یہ تابوت اپنی زندگی میں ہی ’’آرڈر پر‘‘ بنوا لیا تھا کیونکہ وہ کینسر کی آخری اسٹیج پر پہنچ چکا تھا اور ڈاکٹر اسے جواب دے چکے تھے۔راس ہال کے شو روم میں گاہکوں کی توجہ کےلیے طرح طرح کے ’’ڈیزائنر تابوت‘‘ رکھے گئے ہیں جن میں ڈیری ملک چاکلیٹ، لیگو ٹوائے اور اسٹار ٹریک، رنگین پھولدار کشتیوں، آگ بجھانے والی گاڑی اور مصری ممیوں کی تھیم والے تابوتوں کے علاوہ اپنی من پسند تھیم کے حساب سے تابوت بنوانے کی سہولت بھی موجود ہے۔ان تابوتوں کے بارے میں راس ہال نے بتایا کہ یہ سب کے سب ماحول دوست اور حیاتی تنزل پذیر (بایو ڈیگریڈیبل) مادّوں سے بنائے جاتے ہیں جو زمین میں دفن کرنے کے چند مہینوں بعد ہی گل کر مٹی میں مل جاتے ہیں مشرقی ممالک کے برعکس ’’ڈیزائنر تابوتوں‘‘ کا یہ کام حصولِ ثواب کےلیے نہیں بلکہ باقاعدہ کاروبار کی حیثیت سے کیا جاتا ہے۔اگرچہ ایسے ایک تابوت کی کم از کم قیمت 2500 نیوزی لینڈ ڈالر (تقریباً ڈیڑھ لاکھ پاکستانی روپے) کے لگ بھگ ہوسکتی ہے لیکنڈیزائن کی نوعیت اور نفاست کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ بہت زیادہ بھی ممکن ہے۔یہاں میتوں کےلیے ’’ڈیزائنر تابوت‘‘ آرڈر پر تیار کیے جاتے ہیں!خوبصورت اور دیدہ زیب تابوت ہیں جو کسی بھی مرنے والے کی آخری رسومات میں خوشیوں کے رنگ بھر سکتے ہیں

JORGE FLIED

امریکا میں سیاہ فام جارج فلائیڈ قتل کیس میں سفید فام سابق پولیس اہلکار کو مجرم قرار دے دیا گیا۔خبر ایجنسی کے مطابق 12 رکنی جیوری نے 45 سالہ سابق پولیس آفیسر ڈیرک چاون کو تمام تینوں الزامات میں مجرم قرار دیا۔مجرم چاون کو تحویل میں لے لیا گیا اور اب اسے کئی سالوں تک قید کاٹنا پڑ سکتی ہے۔جارج فلائیڈ کے حامیوں نے عدالت کے باہر جشن منایا۔ جارج فلائیڈ کے خاندان کے وکیل نے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے فیصلے کو تاریخ میں ٹرننگ پوائنٹ قرار دے دیا۔امریکی صدر جو بائیڈن فلائیڈ کے ٹرائل سے متعلق بیان دیں گے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق جیوری کے فیصلے کے بعد صدر بائیڈن نے جارج فلائیڈ کے اہلخانہ کو ٹیلی فون بھی کیا۔واضح رہے کہ سیاہ فام امریکی جارج فلائیڈ کے قتل کا واقعہ مئی 2020 میں پیش آیا تھا۔ جس کی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا تھا کہ پولیس اہلکار نے فلائیڈ کی گردن کو اپنے گھٹنے سے بہت زور سے دبا رکھا تھا۔ڈیرک چاون نے فلائیڈ کی گردن پر 8 منٹ 46 سیکنڈ تک گھٹنے ٹیکے رکھے، طبی معائنہ کاروں کی رپورٹ کے مطابق 3 منٹ بعد فلائیڈ بےسدھ ہوگئے تھے۔واقعے کے بعد امریکا سمیت دنیا بھر میں شدید مظاہرے ہوئے تھے

INDIA KASHMIR MEDIA

صحافیوں کی عالمی تنظیم نے بھارت اور مقبوضہ کشمیر کو صحافیوں کیلیے بدترین جگہ قرار دیدیا،، رپورٹرز آؤٹ آف بارڈرز کے مطابق ایک سو اسی ممالک کی فہرست میں بھارت ایک سو بیالیس ویں نمبر پر ہے، مقبوضہ کشمیر میں صحافیوں کو سخت قدغنوں کا سامنا ہےبھارت صحافیوں کیلیے انتہائی خطرناک ملک قرار مقبوضہ کشمیر میں میڈیا پر بھارت کی سخت پابندیاں رپورٹرز آؤٹ آف بارڈرز کی جانب سے جاری 2021 ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس کے مطابق بھارت صحافیوں کیلیے انتہائی خطرناک ممالک کی فہرست میں شامل ہے، رینکنگ میں بھارت گزشتہ برس کی طرح 180 میں سے 142 ویں نمبر پر موجود ہے، صحافیوں کو پولیس کے مظالم، سیاسی کارکنان کے حملوں اور کرپٹ، جرائم پیشہ گروہوں سے سنگین خطرات لاحق ہیں، آر ایس ایس نظریات کے تحت ہندوتوا کا پرچار صحافیوں کیلیے بڑا خطرہ بن گیا ہےتنظیم کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں صحافیوں کو سخت قدغنوں کا سامنا ہے،نام نہاد سرچ آپریشنز کی کوریج پر پابندی عائد کردی گئی ہے، میڈیا اداروں کیخلاف کارروائیاں کی جارہی ہیں، امریکی خبر رساں ادارےکی رپورٹ کے مطابق آپریشنز کی کوریج پر پابندی سے سچ سامنے نہیں آ سکے گا، کشمیری صحافیوں کا کہنا ہے پابندیوں کے ساتھ ساتھ انہیں ڈکیٹیشن بھی دی جاتی ہیں جو نظرانداز بھی نہیں کرسکتے

Hnag kong ban bhart

بھارت سے آنے والی پرواز کے 49 مسافروں میں کورونا کی تصدیق کے بعد ہانگ کانگ نے بھارت پر دو ہفتے کی فضائی پابندی عائد کردی۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نئی دہلی سے ہانگ کانگ آنے والی بھارت کی نجی ایئرلائن وسٹارا کی پرواز کے 188 مسافروں کے کورونا ٹیسٹ کیئے گئے جن میں سے 49 کا ٹیسٹ مثبت آیا گیا۔کورونا ٹیسٹ مثبت آنے پر ہانگ کانگ نے بھارت سے آنے والی تمام پروازوں پر دو ہفتے کے لیے پابندی عائد کردی۔ علاوہ ازیں ہانگ کانگ نے پاکستان اور فلپائن پر بھی سفری پابندی عائد کردی ہے۔ہانگ کانگ میں کورونا کی چوتھی لہر نے شدت اختیار کرلی ہے جس کے باعث ایس او پیز کی سختی سے پابندی کرائی جا رہی ہے اور تمام پروازوں کے مسافروں کو پہلے قرنطینہ کیا جاتا ہے اور کورونا ٹیسٹ کے بعد باہر جانے کی اجازت دی جاتی ہے۔دوسری جانب بھارت میں کورنا کے یومیہ کیسز کی تعداد 2 لاکھ کے قریب پہنچ گئی ہے جب کہ کورونا وائرس کا ڈبل میوٹینٹ سامنے آنے پر کئی ممالک نے پہلے ہی بھارت سے سفری تعلقات معطل کرلیے ہیں۔

NIDA YASIR CRY

پاکستان کی نامور ٹی وی میزبان اور اداکارہ ندا یاسر ایک شو کے دوران اپنی والدہ سے متعلق گفتگو پر آبدیدہ ہو گئیں۔ پروگرام کے میزبان عامر لیاقت حسین نے دوران شو ندا یاسر سے حال ہی میں خالق حقیقی سے جا ملنے والی ان کی والدہ کے انتقال پر اظہار تعزیت کیا جس پر اداکارہ آبدیدہ ہو گئیں۔متعدد ڈرامہ سیریلز میں اداکاری کے جوہر دکھانے والی ندا یاسر آج کل اپنے شوہر اور اداکار یاسر نواز کے ساتھ مل کر ایک پروڈکشن ہاؤس چلا رہی ہیں۔ندا یاسر حال ہی میں اپنے شوہر یاسر نواز کے ہمراہ ایک نجی ٹی وی کی رمضان ٹرانسمیشن میں شریک ہوئیں۔ پروگرام کے میزبان عامر لیاقت حسین نے دوران شو ندا یاسر سے حال ہی میں خالق حقیقی سے جا ملنے والی ان کی والدہ کے انتقال پر اظہار تعزیت کیا جس پر اداکارہ آبدیدہ ہو گئیں۔اس موقع پر اداکارہ کا کہنا تھا کہ میں اپنی والدہ کے بارے میں زیادہ گفتگو نہیں کر سکتی، حتیٰ کہ اپنے پروگرام میں بھی میں، جب بھی اپنی والدہ کو یاد کرتی ہوں تو اپنے آنسوؤں کو نہیں روک پاتی اور بہت افسردہ ہو جاتی ہوں۔

KASHMIR

مقبوضہ کشمیرمیں مودی کے مظالم جاری ۔۔ شوپیاں میں مزیددو نوجوانوں کوجعلی مقابلے میں شہید کردیاگیا کشمیری میڈیاکے مطابق شوپیاں میں محاصرے اور گھرگھرتلاشی کے دوران بھارتی فورسزنے دو نوجوانوں کوشہیدکردیا،، جبکہ قابض فورسز نے علاقے میں خواتین اور بچوں کوبھی تشددکانشانہ بنایا ادھر سرینگر،پلوامہ،بڈگام سمیت دیگرعلاقوں میں بھی آپریشن اور گھرگھرتلاشی کے دوران کئی نوجوانوں کوحراست میں لے لیاگیاہے دوسری جانب کشمیری رہنماؤں کاکہنا ہے کہ مودی سرکار کچھ بھی کرلے ۔۔ جدوجہد آزادی کے حصول تک جاری رہے گی مقبوضہ کشمیرمیں مودی کے مظالم جاری شوپیاں میں مزیددو نوجوانوں کوجعلی مقابلے میں شہید کردیاگیا

IMF

عالمی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف) نے ایک بار پھر پاکستان پر ٹیکس اور انرجی اصلاحات کے نفاذ کے لیے زور دیا ہے جن کا مقصد سرکاری قرض میں کمی اور پاور سیکٹر کو مالیاتی لحاظ سے خودکفیل بنانا ہے۔آئی ایم ایف کی مقامی نمائندہ ٹریسا ڈبن سنچے نے گذشتہ روز پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس ( پی آئی ڈی ای) کے تحت ویبینار میں کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے مقاصد بدستور ایجنڈے کا حصہ ہیں جس کی تکمیل پروگرام کے نفاذ کے دوران ضروری ہے۔ انھوں نے ریونیو میں اضافے اور quasi-fiscal آپریشنز کے خاتمے کو آئی ایم ایف پروگرام کے کلیدی مقاصد کے طور پر واضح کیا۔آئی ایم ایف کی مقامی سربراہ نے اپنے خطاب کے دوران بار بار ٹیکس اور پاور ٹیرف سے متعلق اقدامات پر عمل درآمد پر زور دیا جن پر گذشتہ ماہ آئی ایم ایف کے ساتھ اتفاق رائے ہوا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ وزیرخزانہ کی تبدیلی سے ہماری اپروچ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور ہم شوکت ترین کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔آئی ایم ایف کی مقامی سربراہ نے کہا کہ آئندہ مالی سال میں جنرل سیلز ٹیکس اور پرسنل انکم ٹیکس ریفارمز کا نفاذ ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاور سیکٹر ایک ایسی صورتحال میں ہے جو بڑے چیلنجنگ ہے، اور جو مسلسل اصلاحات کی متقاضی ہے۔دوسری جانب نئے وزیرخزانہ شوکت ترین گذشتہ وزیراعطم کے معاون خصوصی برائے ریونیو ڈاکٹر وقار مسعود کے ہمرا کیو بلاک پہنچے اور باضابطہ طور پر اپنی ذمے داریاں سنبھال لیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ جلد اپنی ترجیحات کا اعلان کریں گے۔

CALIFORNIA

ہوں تو میں چھوٹا مگر کام کروں میں بڑے بڑے ،کیلیفورنیا میں جدید برقیات کی بدولت سائنسدانوں نےدال کے دانے جتنا آلہ بنالیا ۔آخر یہ آلہ دیکھتا کیسا ہے اور اسے کس مقصد کے تحت بنایا گیا آئیے آپ کو دکھاتے ہیں اس سے قبل ہم مقناطیسی گمک کی طیف نگاری (میگنیٹک ریزوننس امیجنگ) کو استعمال کرتے رہے ہیں لیکن اس سے چند سینٹی میٹر گہری بافتوں میں ہی جھانک کر وہاں آکسیجن کا احوال دیکھا جاسکتا ہے۔ لیکن اب نئے سینسر سے بدن کی مزید گہرائی تک کا جائزہ لیا جاسکتا ہے۔یونیورسٹی آف کیلیفورنیا ، برکلے کے سائنسدانوں نے بہیر بوٹی کیڑے جتنا ایک وائرلیس سینسر بنایا ہے جسے ’اعصابی گرد‘ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ حقیقی وقت میں اعصابی سگنل اور پٹھوں کی کارکردگی نوٹ کرتا ہے۔ یہ عضلات کی برقی سرگرمی میں اتار چڑھاؤ کو نوٹ کرکے اس کی معلومات الٹراساؤنڈ کی صورت میں جسم سے باہر موجود ایک آلے کو بھیجتا ہے۔ اس کے علاوہ بہت جلد یہ پٹھوں کے درد اور مرگی وغیرہ کو سمجھنے میں بھی مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔اس کی لمبائی ساڑھے چار ملی میٹر اور چوڑائی صرف تین ملی میٹر ہے جسے آکسیجن ناپنے والی ایک باریک پرت پر چپکایا جاتا ہے۔ اس نظام میں ایک خردبینی ایل ای ڈی اور آپٹیکل فلٹر بھی شامل ہے جو اطراف کے ٹشوز (بافتوں) میں آکسیجن کی مقدار نوٹ کرتا ہے۔