کینسر صحت

امریکا میں ہونے والی ایک نئی تحقیق کے نتائج سے بریسٹ کینسر سمیت دیگر کئی اقسام کے کینسر کے علاج سے متعلق ایک نئی امید پیدا ہو گئی ہے۔ایک ریسرچ کی رپورٹ جرنل برائے نیچر پارٹنر جرنلز میں شائع ہوئی ہے، بریسٹ کینسر کا سبب بننے والا ہارمون میسی کینسر سینٹر کے محقق چارلس کلیوینجر اور ان کی لیب نے دریافت کیا ہے۔بریسٹ کینسر کا سبب بننے والے ہارمون کی دریافت سے کئی دیگر اقسام کے کینسر کا علاج بھی ممکن نظر آنے لگا ہے۔ورجینیا کامن ویلتھ یونی ورسٹی میں ہونے والی اس حالیہ تحقیق میں اس بات کے مضبوط شواہد ملے ہیں کہ چھاتی میں کینسر کی افزائش کا سبب بننے والا ایک ہارمون پروکلیٹین دراصل بریسٹ گروتھ کا سبب بنتا ہے، اور یہ حمل کے دوران ماں کے دودھ میں اضافے کی وجہ بھی ہوتا ہے۔محققین نے اس ہارمون کو بریسٹ کینسر کا اہم سبب قرار دیا ہے، انھوں نے خوش خبری سنائی کہ یہ ہارمون ٹارگیٹڈ دوا کی تیاری میں کافی مفید ثابت ہوگا، اور اس سے کئی قسم کے کینسر کا علاج کیا جا سکے گا۔محققین کے مطابق بریسٹ کینسر کا براہ راست سبب بننے والے اس ہارمون کے خلیات کی سطح پر پروٹین موجود ہوتا ہے، جسے رسیپٹرز کہتے ہیں۔ یہ ریسپٹرز بائیولوجیکل پیغامات وصول کرنے اور بھیجنے کے ساتھ خلیے کے افعال کو بھی ریگولیٹ کرتے ہیں۔

اسپرین صحت

ایک حیرت انگیز مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ باقاعدہ سے ضدِ سوزش ادویہ مثلاً اسپرین کھانے والے بوڑھے افراد فضائی آلودگی کے جز وقتی منفی اثرات سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔اگرچہ یہ ایک چھوٹا سا مطالعہ ہے جو ایک ہزار سفید فام بزرگوں پر کیا گیا ہے لیکن اس کے نتائج بہت حیران کن ہیں۔ امریکا میں بوسٹن کے علاقے کے باسیوں میں یہ تجزیہ کیا گیا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ فضائی آلودگی میں موجود کاربن اور دیگر خطرناک ذرات سانس لینے میں دقت پیدا کرتے ہیں اور ساتھ ہی یہ ذرات دماغ پراثرانداز ہوکر اکتسابی اور ذہنی صلاحیتوں مثلاً یادداشت وغیرہ کو متاثر کرتے ہیں۔اگرچہ سائنس داں اسپرین اور دماغی مثبت اثرات کے درمیان کوئی براہِ راست تعلق دریافت نہیں کرسکے تاہم مطالعے میں شامل جن افراد نے اندرونی سوزش (انفلیمیشن) دور کرنے والی غیر ایسٹرائیڈ ادویہ (این ایس اے آئی ڈی ) استعمال کیں انہوں نے دیگر کے مقابلے میں یادداشت، ارتکازِ توجہ اور ہدایت پر عمل کرنے کے تمام ٹیسٹ میں غیرمعمولی بہتری دکھائی۔اپنی رپورٹ میں ماہرین نے کہا ہے کہ فضائی آلودگی سے بھرپور ماحول میں رہنے والے بالخصوص بزرگوں میں اکتسابی صلاحیت پر جزوقتی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور اسپرین اس ضمن میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ جب دماغی سوزش اور جلن میں کمی ہوجائے تو اس سے دماغ کی کارکردگی بہتر ہوجاتی ہے۔

بھارت کوویڈ

بھارت میں کرونا کیسز نئی بلندیوں پر پہنچ گئے، دنیا میں ایک دن میں سب سے زیادہ چار لاکھ بارہ ہزار نئے کیسز آگئے، مزید تین ہزار نوسوبیاسی افراد ہلاک ہوگئے، مدھیہ پردیش سمیت دیگر کئی ریاستوں میں لاک ڈاؤن کا نفاذ کردیاگیا ہے، بھارت نے کرونا پھیلاؤ میں دنیا کو پیچھے چھوڑ دیا، سب سے زیادہ کیسز کا ریکارڈ قائم گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران بھارت میں چار لاکھ بارہ ہزار نئے کیسز آگئے، مزید تین ہزار نوسوبیاسی افراد ہلاک ہوگئے، ڈبلیو ایچ او کے مطابق گزشتہ ہفتے کے دوران دنیا کے چھیالیس فیصد نئے کیسز اور پچیس فیصد اموات بھارت میں ہوئیں،مدھیہ پردیش، آندھرا پردیش، چھتیس گڑھ، سکم سمیت مختلف ریاستوں نے لاک ڈاؤن کا نفاذ اور پابندیوں میں اضافہ کردیا ہے، مدھیہ پردیش کے شہر بھوپال میں کرفیو نافذ کردیا گیا ہےاتراکھنڈمیں آکسیجن بحران شدت اختیار کرگیا، یومیہ استعمال بارہ ہزار لیٹر پہنچنے کے باعث مریضوں کو دوسری جگہوں پر منتقل کرنا پڑ گیا،امریکہ سے امدادی سامان کی دوسری کھیپ بھارت پہنچ گئی، بحرین نے بحری بیڑے کے ذریعے طبی امداد منگلور پہنچا دی، کویت نے بھی بحری جہاز کے ذریعے آکسیجن ودیگرسامان کولکتہ پہنچا دیا

صحت

کرونا ویکسین کی افادیت کو ایک بار پھر ایک بڑی طبی تحقیق کے ذریعے ثابت کر دیا گیا ہے، ریسرچ میں سامنے آیا ہے کہ ویکسین کی ایک خوراک سے گھر میں وائرس کے پھیلاؤ میں 50 فی صد سے زائد کمی آ جاتی ہے۔پبلک ہیلتھ انگلینڈ (پی ایچ ای) کی جانب سے شائع ہونے والی اس تحقیق میں کہا گیا ہے کہ فائزر یا آسٹرا زینیکا کی ویکسین کی ایک خوراک گھر میں ایک فرد سے دیگر افراد میں کرونا کی منتقلی کو پچاس فی صد سے بھی زیادہ کم کر دیتی ہے۔ریسرچ کے دوران یہ معلوم ہوا کہ وہ افراد جنھیں ویکسین کی پہلی خوراک دی گئی تھی، جب 3 ہفتے بعد وہ وائرس سے متاثر ہوئے تو وہ ویکسین نہ لینے والوں کی نسبت اپنے گھر والوں میں کم وائرس پھیلانے کا سبب بنے۔اس طبی تحقیق میں 24 ہزار گھروں کے 57 ہزار سے زائد افراد کے ڈیٹا کا ویکسین نہ لگوانے والے تقریباً 10 لاکھ کیسز سے تقابل کیا گیا، اور یہ نتیجہ حاصل ہوا کہ ویکسین لینے والے افراد اپنے گھروں میں ویکسین نہ لینے والوں کی نسبت نصف سے بھی کم تناسب سے وائرس پھیلاتے ہیں۔برطانوی وزیر صحت میٹ ہینکاک نے اس تحقیق کے نتائج پر بیان دیتے ہوئے اسے ایک شان دار خبر قرار دیا، اور کہا کہ ہم پہلے ہی جانتے تھے کہ ویکسین زندگیاں بچاتی ہے، تاہم یہ تحقیق حقیقی دنیا کا تفصیلی ڈیٹا ہے، جو دکھا رہی ہے کہ اس سے وائرس کا پھیلاؤ بھی کم ہوتا ہے۔میٹ ہنکاک کا کہنا تھا ریسرچ سے اس بات کو تقویت ملی ہے کہ ویکسین وبا سے نکلنے کا بہتری ذریعہ ہے، یہ آپ کی اور آپ کے گھر والوں کی حفاظت کرتی ہے۔ایک اور طبی تحقیق میں بھی یہ بات سامنے آئے تھی کہ ویکسین کی ایک خوراک کے 4 ہفتوں بعد وائرس پیدا ہونے کا خدشہ 65 فی صد سے زائد کم ہو جاتا ہے۔

کورونا وائرس

ملک میں کورونا کی ہلاکت خیزیاں جاری ہیں اور گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 161 افراد وائرس سے انتقال کرگئے۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں کورونا کے 37587 ٹیسٹ کیے گئے جس میں سے 3377 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی جبکہ وائرس سے مزید 161 افراد انتقال کر گئے۔ملک میں تقریباً ایک ماہ بعد ایک روز میں 4 ہزار سے کم کیسز سامنے آئے ہیں، گزشتہ ماہ 5 اپریل کو کورونا کے 3953 کیسز رپورٹ ہوئے تھے اورگزشتہ 24 گھنٹوں میں 3377 کیسز سامنے آئے ہیں۔سرکاری پورٹل کے مطابق ملک میں کورونا کے مثبت کیسز کی شرح 8.9 فیصد رہی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں کورونا سے ہلاکتوں کی تعداد 18310ہوگئی ہے اور مجموعی کیسز 8 لاکھ 37523 تک جاپہنچے ہیں جب کہ فعال کیسز کی تعداد 86151 ہے۔اس کے علاوہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 5018 مریض کورونا سے صحتیاب بھی ہوئے جس کے بعد مجموعی طور پر صحتیاب ہونے والوں کی تعداد 7 لاکھ 33062 ہو گئی ہے۔سرکاری پورٹل کے مطابق سندھ میں کورونا کے مریضوں کی مجموعی تعداد 286521 ہوگئی ہے جب کہ 4678 افراد اب تک انتقال کرچکے ہیں۔پنجاب میں کورونا کے کل مریضوں کی تعداد 308529 ہے اور 8683 افراد وائرس میں مبتلا ہوکر جان سے جا چکے ہیں جب کہ بلوچستان میں مریضوں کی کل تعداد 22664 اور ہلاکتیں 239 ہو چکی ہیں۔خیبرپختونخوا میں کورونا کے مریضوں کی تعداد 120590 اور 3423 ہلاکتیں ہو چکی ہیں جب کہ آزاد کشمیر میں 17397 افراد وائرس میں مبتلا ہوچکے ہیں اور 487 افراد انتقال کرگئے۔اس کے علاوہ گلگت بلتستان میں اب تک کورونا کے مریضوں کی تعداد 5330 اور 107 افراد انتقال کرچکے ہیں۔پورٹل کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں کورونا کے مریضوں کی مجموعی تعداد 76492 ہے اور اب تک 693 مریض انتقال کر چکے ہیں۔

پاکستانی افرات زر

پاکستان میں افراطِ زر کی سطح بلند ہورہی ہے۔ اپریل میں افراط زر 11.1 فیصد رہا اور اسی مناسبت سے اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا۔پاکستان جیسی معیشت میں جہاں حقیقی پیداواری شعبوں کی کمی ہے اور معیشت ریئل اسٹیٹ، کنزیومر فنانس وغیرہ جیسے شعبوں پر پروان چڑھتی ہے وہاں مہنگائی کا ہونا نہ صرف یقینی ہے بلکہ وہاں اقتصادی اہداف بھی افراطِ زر کے ذریعے ہی حاصل کیے جاتے ہیں۔ افراطِ زر سے جڑی نمو نہ ہو تو پاکستان میں وزیرخزانہ کے لیے اقتصادی ترقی دکھانا بہت مشکل ہوجائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ وزرائے خزانہ اور مالیاتی پالیسی ساز اس وقت تک افراطِ زر یعنی مہنگائی کو کنٹرول کرنا نہیں چاہتے جب تک کہ یہ قابو سے باہر نہ ہوجائے۔کنزیومر پرائس انڈیکس ٹریکنگ اوربنیادی اجناس کی قیمتوں کا تعین وفاقی اور صوبائی سطح پر اور اس کا نفاذ بڑے شہروں میں ہوتا ہے۔ چھوٹے چھوٹے اور دورافتادہ دیہات اور قصبوں میں ان قیمتوں کا اطلاق کیسے یقینی بنایا جائے؟ اس کا واحد راستہ شفاف اور دیانت دارانہ پرائس مجسٹریسی سسٹم ہے۔ افراطِ زر یا مہنگائی پاکستان کا بنیادی سماجی معاشی مسئلہ ہے جس کا توڑ جامع سماجی معاشی رسپانس اور شفاف و دیانت دارانہ مکینزم کے نفاذ کے ذریعے کرنا بہت ضروری ہے۔

کورونا

ملک میں ایک روز کے دوران مزید 79 افراد زندگی کی بازی ہار گئے ہیں جس کے بعد اب اس وبا سے جاں بحق ہونے والوں کی مصدقہ تعداد 18 ہزار 149 ہوگئی ہے۔نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ روز ملک بھر میں کوویڈ 19 کی تشخیص کے لیے 45 ہزار 254 ٹیسٹ کیے گئے۔گزشتہ روز ملک میں 4 ہزار 213 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے اور مثبت کیسز کی شرح 9.16 فیصد رہی۔ ملک میں اس وائرس سے متاثرہ افراد کی مصدقہ تعداد 8 لاکھ 34 ہزار 146 ہوگئی ہے۔پنجاب میں کورونا کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 3 لاکھ 6 ہزار 929 ہے اس کے علاوہ سندھ 2 لاکھ 85 ہزار 626، خیبر پختونخوا ایک لاکھ 20 ہزار 64، بلوچستان 22 ہزار 620، اسلام آباد میں 76 ہزار 209، آزاد کشمیر 17 ہزار 371 اور گلگت بلتستان میں 5 ہزار 327 افراد کورونا سے متاثر ہوچکے ہیں۔این سی او سی کے مطابق گزشتہ روز ملک بھر میں 5 ہزار 842 مریض کورونا سے صحتیاب ہوئے جس کے بعد مجموعی طور پر صحتیاب ہونے والوں کی تعداد 7 لاکھ 28 ہزار 44 ہوگئی ہے۔ایک روز میں کورونا وائرس نے ملک میں مزید 79 افراد کی جان لے لی ہے، جس کے بعد ملک میں کورونا سے ہلاکتوں کی تعداد 18149ہو گئی ہے۔ پنجاب میں کورونا نے مجموعی طور پر 8 ہزار 572 افراد کی زندگیوں کے چراغ بجھادیئے ہیں، سندھ میں 4 ہزار 667، خیبر پختونخوا 3 ہزار 392، اسلام آباد 691، گلگت بلتستان 107، بلوچستان میں 237 اور آزاد کشمیر میں 483 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ملک میں اس وقت کورونا کے فعال مریضوں کی تعداد 87 ہزار 953 ہے، جن میں سے 5 ہزار 377 کی حالت تشویشناک ہے۔

کینسر صحت

امریکا میں ہونے والی ایک نئی تحقیق کے نتائج سے بریسٹ کینسر سمیت دیگر کئی اقسام کے کینسر کے علاج سے متعلق ایک نئی امید پیدا ہو گئی ہے۔ایک ریسرچ کی رپورٹ جرنل برائے نیچر پارٹنر جرنلز میں شائع ہوئی ہے، بریسٹ کینسر کا سبب بننے والا ہارمون میسی کینسر سینٹر کے محقق چارلس کلیوینجر اور ان کی لیب نے دریافت کیا ہے۔بریسٹ کینسر کا سبب بننے والے ہارمون کی دریافت سے کئی دیگر اقسام کے کینسر کا علاج بھی ممکن نظر آنے لگا ہے۔ورجینیا کامن ویلتھ یونی ورسٹی میں ہونے والی اس حالیہ تحقیق میں اس بات کے مضبوط شواہد ملے ہیں کہ چھاتی میں کینسر کی افزائش کا سبب بننے والا ایک ہارمون پروکلیٹین دراصل بریسٹ گروتھ کا سبب بنتا ہے، اور یہ حمل کے دوران ماں کے دودھ میں اضافے کی وجہ بھی ہوتا ہے۔محققین نے اس ہارمون کو بریسٹ کینسر کا اہم سبب قرار دیا ہے، انھوں نے خوش خبری سنائی کہ یہ ہارمون ٹارگیٹڈ دوا کی تیاری میں کافی مفید ثابت ہوگا، اور اس سے کئی قسم کے کینسر کا علاج کیا جا سکے گا۔محققین کے مطابق بریسٹ کینسر کا براہ راست سبب بننے والے اس ہارمون کے خلیات کی سطح پر پروٹین موجود ہوتا ہے، جسے رسیپٹرز کہتے ہیں۔ یہ ریسپٹرز بائیولوجیکل پیغامات وصول کرنے اور بھیجنے کے ساتھ خلیے کے افعال کو بھی ریگولیٹ کرتے ہیں۔

آسٹریا لاک ڈاؤن ختم

آسٹریا کے دارالحکومت ویانا کے مئیر مائیکل لڈوگ نے آج سے چوتھے لاک ڈاؤن میں نرمی کا اعلان کردیا ویانا میں آج سے چھوٹے بڑے تجارتی مراکز شاپنگ سینٹر حفاظتی تدابیر کےتحت کھل جائیں گے۔ریسٹورنٹ۔ہوٹل اور فٹنس سنٹرویانا میں کھلنے کا اعلان آئندہ چند میں ماہرین سے مشاورت سے کیا جائے گا۔شاپنگ سینٹروں اور سرکاری دفاترمیں جانے والوں کو منفی کورونا ٹیسٹ دکھانا لازمی ہوگا ویانا کے میئر کا3 مئی سے چوتھے لاک ڈاؤن میں نرمی کا اعلان ویانا میں 3 مئی سے تجارتی مراکز شاپنگ سینٹر حفاظتی تدابیر کے تحت کھلیں گے ریسٹورنٹ،ہوٹل اور فٹنس سینٹر کھلنے کا اعلان مشاورت سے کیا جائے گاتجارتی مراکز میں کام کرنے والوں کو کورونا ٹیسٹ ہر ہفتے کرانا لازمی قرار شاپنگ سینٹرز اور سرکاری دفتروں میں جانے والوں کو بھی ٹیسٹ کرانا ہوگا

سارس 2 وائرس صحت کو بچاتا ہے

سارس کوو ٹو (المعروف کورونا) وائرس کو بلند درجہ حرارت والے ماحول میں ایک سیکنڈ سے بھی کم وقفے کے لیے رکھا جائے تو اس سے وائرس تیزی سے تلف ہونے لگتا ہے۔کورونا وائرس کو مختلف درجہ حرارت پر رکھ کر اس کے اثرات دیکھے گئے ہیں۔ لیکن بلند درجہ حرارت ایک سے بیس منٹ تک نوٹ کیا گیا جو عملی طور پر ممکن نہیں ، کیونکہ یہ عمل مہنگا اور مشکل ہوسکتا ہے۔
اب ٹیکساس اے اینڈ ایم یونیورسٹی کے شعبہ برقیات وکمپیوٹر کے پروفیسر ایرم ہان نے ثابت کیا ہے کہ ایک سیکنڈ سے بھی کم وقفے کا بلند درجہ حرارت کورونا وائرس کو مکمل طور پر ناکارہ بناسکتا ہے۔ اس طرح ہوا میں پرواز کرنے والے کورونا وائرس کو آسانی سے ختم کیا جاسکتا ہے۔پروفیسر ایرم نے فولادی نلکی بنائی اور اس میں کورونا وائرس سے بھرپور مائع بھرا اور اسے فوری طور بہت گرم کیا اور پھر فوراً ہی ٹھنڈا کردیا۔ وائرس کو بہت تھوڑے وقفے کے لیے گرم کیا گیا تھا۔ اس طرح ایک سیکنڈ سے بھی کم دورانیہ کا درجہ حرارت وائرس کو تباہ کرسکتا ہے۔ اب انہوں نے دو ماہ تک کئے گئے نتائج سائنسی برادری کے سامنے پیش کردیئے ہیں۔
اس طرح 161 فیرن ہائیٹ یا 72 درجے سینٹی گریڈ پر محلول کو نصف سیکنڈ تک گرم کیا جائے تو مائع میں وائرس کی تعداد ایک لاکھ گنا تک کم ہوجاتی ہے اور وائرس کا پھیلاؤ رک سکتا ہے۔ پروفیسر ایرم کے مطابق یہ ایک بہت اہم دریافت ہے کیونکہ مختصر دورانئے کی حرارت پیدا کرنا قدرے آسان ہوسکتا ہے۔اس طرح نصف سیکنڈ کی دوبارہ حرارت مزید مفید ثابت ہوسکتی ہے۔ یہ طریقہ ایئرکنڈیشننگ نظاموں اور ہسپتالوں کے وینٹی لیٹر وغیرہ کے لئے بہت مفید ثابت ہوسکتا ہے۔ لیکن عین اسی گرمی سے انفلوئنزا سمیت دیگر وائرسوں کو بھی برباد کرسکتا ہے۔ جو اگرچہ کم خطرناک ہے لیکن دنیا کےلیے ایک مشکل بنا ہوا ہے۔
اگلے مرحلے میں اسی درجہ حرارت کو ملی سیکنڈ پر لاکر اس کی افادیت نوٹ کی جائے گی۔ تاہم ابتدائی نتائج نہایت حوصلہ افزا ہیں۔