سائنس سے اب ثابت ہوا ہے کہ ذہنی تناؤ سے بالوں کے سفید ہونے کا عمل بہت تیز ہوجاتا ہے لیکن اچھی خبر یہ ہے کہ تناؤ کم کرکے بالوں کو تیزی سے بوڑھا ہونے سے روکا جاسکتا ہے۔

کولمبیا یونیورسٹی کے ویگی لوس کالج آف فزیشن اینڈ سرجن سے وابستہ ماہرین نے پہلی مرتبہ بہت بڑی تعداد کے ثبوت پیش کئے ہیں جو نفسیاتی تناؤ اور بالوں کے سفیدی کا تعلق بیان کرتے ہیں۔ لیکن سائنسداں یہ جان کر حیران رہ گئے کہ جیسے ہی تناؤ کم ہوتا ہے تو بالوں کی سیاہی لوٹ آتی ہے۔

یہ تحقیق 22 جون کو ای لائف نامی ریسرچ جرنل میں شائع ہوئی ہے جس سے یہ تصور زائل ہوتا ہے کہ تناؤ سے سفید ہونے والے بال دوبارہ سیاہ نہیں ہوسکتے۔ یہ تحقیق کولمبیا یونیورسٹی کے نفسیات داں، مارٹِن پیکارڈ اور ان کے ساتھیوں نے کی ہے۔ ’پرانے سفید یا بھورے بالوں کو دوبارہ ’جوان‘ رنگت (پگمنٹ) کے درجے تک لوٹانے کے نئے ثبوت ملے ہیں جس سے بالوں کی سفیدی دور کرنے اور دماغی تناؤ کو سمجھنے میں مدد مل سکے گی۔‘

اس تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ انسانی عمر رسیدگی کوئی ناقابلِ تلافی یا جامد حیاتیاتی عمل نہیں بلکہ اسے روکا یا وقتی طور پر پلٹایا جاسکتا ہے۔ جب بالوں کی جڑ(فولیکل) کھال کے نیچے ہوتی ہے تو نفسیاتی دباؤ کے ہارمون اس پر اثرڈالتے ہیں اور یہ عمل مستقل ہوجاتا ہے اور سفید بال ہی نمودار ہوتے رہتے ہیں۔

اس دوران انکشاف ہوا کہ بعض افراد کے سفید بال دوبارہ اصل رنگت کی جانب لوٹ آئے اور جب تناؤ کی ڈائری سے اس کا موازنہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ اس عرصے میں وہ ذہنی تناؤ کے کم تردرجے کے شکار تھے۔ اس کے علاوہ پانچ رضاکار ایسے تھے جو چھٹیوں پر تھے اور آرام کررہے تھے۔ اس دوران تناؤ کم ہونے سے ان کے سر کے جو بال اگے وہ سفید کی بجائے اصل رنگت کے برآمد ہوئے۔

وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نے تمام کمشنرز کو انسداد ڈینگی سرگرمیاں تیز کرنے کی ہدایت کردی۔ان کا کہنا ہے کہ

ڈینگی پر قابو پانا بہت اہم ہوگیا ہے، احتیاط نہ کرنے سے ڈینگی پھیلنے کا خدشہ ہے، ان ڈور سرویلنس کو فوراً بڑھایا جائے۔

صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا ہے کہ ڈینگی پر قابو پانا بہت اہم ہوگیا ہے، احتیاط نہ کرنے سے ڈینگی پھیلنے کا خدشہ ہے، ان ڈور سرویلنس کو فوراً بڑھایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ڈی جی ہیلتھ، ٹی ایچ کیوز ڈینگی سرگرمیوں کی مانیٹرنگ کریں، اسپتالوں میں ڈینگی کے مشتبہ مریضوں میں اضافہ ہورہا ہے، ڈینگی لاروا تلفی کو یقینی بنانے کے لیے ٹارگٹ آپریشنز کیے جائیں۔

وزیر صحت نے کہا کہ شہر میں ڈینگی کا زیادہ خطرہ ہے، سرویلنس اور لاروا سائیڈنگ پر خصوصی توجہ دی جائے، انسداد ڈینگی سے متعلق یونین کونسل سطح پر پلان تیار کیا جائے۔

ڈینگی ایک مخصوص مادہ مچھرکے کاٹنے سےہوتا ہے، متاثرہ شخص تیزبخار میں مبتلا ہوسکتا ہے، اس کے جسم میں درد ہوتا ہے اورسرخ دھبے بھی پڑسکتے ہیں۔

ماہرین صحت کے مطابق ڈینگی کے مرض میں مبتلا 80 فیصد افراد کو اسپتال میں علاج کی ضرورت نہیں ہوتی اور ان کا علاج گھر پر ممکن ہے۔

ڈینگی مچھر صبح روشنی ہونے سے پہلے اور شام میں اندھیرا ہونے سے دو گھنٹے قبل زیادہ متحرک ہوتا ہے، اس کی افزائش آگست سے اکتوبر کے مہینے کے دوران میں ہوتی ہے اور سرد موسم میں ڈینگی کی کی افزائش نسل رک جاتی ہے۔

ڈینگی کا مرض مچھر کے ذریعے مریض سے کسی بھی دوسرے شخص کو منتقل ہوسکتا ہے۔

طبی ماہرین کہتے ہیں کہ مرض میں مبتلا مریضوں کے خون میں پلیٹ لیٹس کی تعداد 50 ہزار سے کم ہونے لگے تو وہ علاج کے لیے اسپتال جائیں۔

کورونا کے بعد ایک اور بیماری پھیلنے کا خدشہ، یاسمین راشد نے خبردار کردیا

 

نیم ایک سدا بہار قدیم درخت ،نیم کا درخت کم از کم 30سے 40 فٹ اونچا، گھنا اور سایہ دار ہوتا ہے

کہا جاتا ہے کہ جس گھر میں نیم کا درخت ہو وہاں کے مکین وبائی امراض سے خاصی حد تک محفوظ رہتے ہیں اس کے پتے صحت سے متعلق کئی شکایات سے نجات دلاتے  ہیں پتوں کے ساتھ اس کے تیل کے استعمال سے بھی بے شمار فوائد حاصل ہوتے ہیں،دیکھئے اس رپورٹ میں

نیم کے درخت کو انسان دوست درخت بھی کہا جاتا ہے، یہ ماحولیاتی آلودگی دُور کرتا ہے، کہا جاتا ہے کہ جس گھر میں نیم کا درخت ہو وہاں کے مکین وبائی امراض سے خاصی حد تک محفوظ رہتے ہیں، اس کے پتے، پھول، پھل اور چھال ہر ایک کی الگ الگ افادیت ہے۔مثلاً نیم کے پتے پانی میں اُبال کر نہانے سے جِلدی امراض سے شفا ملتی ہے جبکہ اس کے پتّے جلا کر گھر میں دھونی دینے سے مچھر ختم ہوجاتے ہیں اور ڈینگی، ملیریا سے بچاؤ ممکن ہوتا ہے۔نیم کی مسواک کا استعمال دانتوں کو کیڑا لگنے سے محفوظ رکھتی ،ہے نیم کی چھال کا جوشاندہ بخار کے لیے اکسیر دوا قرار دیا جاتا ہے۔نیم کے تیل کے استعمال سے چہرے کی جلد با رونق اور شاداب نظر آتی ہے۔نیم کا تیل قدرتی طور پر جراثیم کش ہوتا ہے، اس کے زخم پر استعمال سے زخم تیزی سے بھرتا ہے اور خراب ہونے سے بچاؤ ممکن ہوتا ہے۔

نیم کے تیل کے حیرت انگیز فوائد

نیم کے درخت کو انسان دوست درخت بھی کہا جاتا ہے

نیم کا تیل قدرتی طور پر جراثیم کش ہوتا ہے

سائنس سے اب ثابت ہوا ہے کہ ذہنی تناؤ سے بالوں کے سفید ہونے کا عمل

سائنس سے اب ثابت ہوا ہے کہ ذہنی تناؤ سے بالوں کے سفید ہونے کا عمل بہت تیز ہوجاتا ہے لیکن اچھی خبر یہ ہے کہ تناؤ کم کرکے بالوں کو تیزی سے بوڑھا ہونے سے روکا جاسکتا ہے۔

کولمبیا یونیورسٹی کے ویگی لوس کالج آف فزیشن اینڈ سرجن سے وابستہ ماہرین نے پہلی مرتبہ بہت بڑی تعداد کے ثبوت پیش کئے ہیں جو نفسیاتی تناؤ اور بالوں کے سفیدی کا تعلق بیان کرتے ہیں۔ لیکن سائنسداں یہ جان کر حیران رہ گئے کہ جیسے ہی تناؤ کم ہوتا ہے تو بالوں کی سیاہی لوٹ آتی ہے۔

یہ تحقیق 22 جون کو ای لائف نامی ریسرچ جرنل میں شائع ہوئی ہے جس سے یہ تصور زائل ہوتا ہے کہ تناؤ سے سفید ہونے والے بال دوبارہ سیاہ نہیں ہوسکتے۔ یہ تحقیق کولمبیا یونیورسٹی کے نفسیات داں، مارٹِن پیکارڈ اور ان کے ساتھیوں نے کی ہے۔ ’پرانے سفید یا بھورے بالوں کو دوبارہ ’جوان‘ رنگت (پگمنٹ) کے درجے تک لوٹانے کے نئے ثبوت ملے ہیں جس سے بالوں کی سفیدی دور کرنے اور دماغی تناؤ کو سمجھنے میں مدد مل سکے گی۔‘

اس تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ انسانی عمر رسیدگی کوئی ناقابلِ تلافی یا جامد حیاتیاتی عمل نہیں بلکہ اسے روکا یا وقتی طور پر پلٹایا جاسکتا ہے۔ جب بالوں کی جڑ(فولیکل) کھال کے نیچے ہوتی ہے تو نفسیاتی دباؤ کے ہارمون اس پر اثرڈالتے ہیں اور یہ عمل مستقل ہوجاتا ہے اور سفید بال ہی نمودار ہوتے رہتے ہیں۔

اس دوران انکشاف ہوا کہ بعض افراد کے سفید بال دوبارہ اصل رنگت کی جانب لوٹ آئے اور جب تناؤ کی ڈائری سے اس کا موازنہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ اس عرصے میں وہ ذہنی تناؤ کے کم تردرجے کے شکار تھے۔ اس کے علاوہ پانچ رضاکار ایسے تھے جو چھٹیوں پر تھے اور آرام کررہے تھے۔ اس دوران تناؤ کم ہونے سے ان کے سر کے جو بال اگے وہ سفید کی بجائے اصل رنگت کے برآمد ہوئے۔

پاکستان میں عالمی وبا کورونا کے باعث مزید 27 افراد انتقال کرگئے

پاکستان میں عالمی وبا کورونا کے باعث مزید 27 افراد انتقال کرگئے جب کہ مثبت کیسز کی شرح 2.3 ریکارڈ کی گئی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں کورونا سے ہلاکتوں کی تعداد 22281 ہوگئی اور مجموعی کیسز 9 لاکھ 57 ہزار 371 تک جاپہنچے ہیں۔

پاکستان میں کورونا کے اعداد و شمار بتانے والی ویب سائٹ (covid.gov.pk) کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں کورونا کے 42062 ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 979 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی جب کہ وائرس سے 27 افراد انتقال کر گئے۔

سرکاری پورٹل کے مطابق ملک میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے مثبت کیسز کی شرح 2.3 فیصد رہی۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں کورونا سے ہلاکتوں کی تعداد 22281 ہوگئی اور مجموعی کیسز 9 لاکھ 57 ہزار 371 تک جاپہنچے ہیں۔

اس کے علاوہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 1499 مریض کورونا سے صحتیاب بھی ہوئے ہیں جس کے بعد مجموعی طور پر صحتیاب ہونے والوں کی تعداد 9 لاکھ 3 ہزار 484 ہوگئی ہے۔

پیاز کے استعمال سے صحت اور خوبصورتی پرجادوئی فوائد

فاسفورس سے بھر پور غذا پیاز کو اگر قدرت کا انسان کے لیے بہترین تحفہ قرار دیا جائے تو یہ غلط نہ ہوگا، پیاز کے استعمال سے صحت سمیت خوبصورتی پر حیرت انگیز فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں جن سے متعلق جاننا اور اس کا کارآمد طریقوں سے استعمال بڑھانا لازمی ہے، دیکھئے اس رپورٹ میں غذائی ماہرین کے مطابق موسمِ گرما کے دوران پیاز کا استعمال بطور سلاد ضرور کرنا چاہیے، پیاز کھانے کے نتیجے میں انسان موسمی انفیکشن اور متختلف وائرسز کے اٹیک سے بچ جاتا ہے، پیاز میں فائبر اور پری بائیوٹک کی خاصی مقدار پائے جانے کے سبب یہ معدے اور آنتوں سے جڑی متعدد بیماریوں میں مفید ہے جبکہ اس سے گرمی کی شدت میں بھی کمی بھی آتی ہے۔ماہرین غذائیت کے مطابق فاسفورس سے بھر پور پیاز کے 100 گرام میں 40 کیلوریز، 89 فیصد پانی، 1.1 گرام پروٹین، 9.3 گرام کاربز ، 4.2 گرام شوگر، 1.7 گرام فائبر اور 0.1 گرام فیٹ پایا جاتا ہے، منرلز اور وٹامنز کے اعتبار سے پیاز میں وٹامن سی، اینٹی آکسیڈنٹ جز پائے جاتے ہیں جو کہ جلد اور بالوں کے لیے نہایت مفید ہیں۔ماہرین غذائیت کے مطابق پیاز میں موجود فولیٹ یعنی وٹامن B9 کی موجودگی سے میٹابالزم تیز، اور نئے خلیوں کو بننے میں مدد ملتی ہے جبکہ وٹامن B6 کی موجودگی خون میں لال خلیوں کی افزائش بھی بہتر بناتی ہے۔پیاز میں موجود وٹامن بی9 کے سبب پیاز حاملہ خواتین کے لیے نہایت موزوں غذا ہے، اس کے استعمال سے چہرے پر دانے اور کیل مہاسوں سے نجات حاصل ہوتی ہے، پیاز کو ایکنی کا علاج بھی قرار دیا جاتا ہے۔پیاز کا استعمال روزانہ کی بنیاد پر ہانڈی میں تو ہوتا ہی ہے مگر پیاز بطور سلاد استعمال کر کے خوبصورتی میں بھی اضافہ کیا جا سکتا ہے جبکہ اس کے مختلف طریقوں سے استعمال سے جھرتے بالوں کا شرطیہ علاج ممکن ہے۔بالوں کی صحت کے لیے اس کا رس نکال کر بالوں پر اسپرے کرنے سے بالوں کی صحت اور افزائش میں حیرت انگیز طور پر اضافہ ہوتا ہے اور بال نئے سرے سے نکلنا شروع ہو جاتے ہیں، بالوں کو گھنا بنانے کے لیے پیاز کا استعمال مفید ہے۔پیاز کے استعمال سے صحت اور خوبصورتی پرجادوئی فوائد پیاز کو ایکنی کا علاج بھی قرار دیا جاتا ہے۔ پیاز کے استعمال سے ہائی بلڈ پریشر کنٹرول کرنے میں مدد ملتی ہے

پاکستان میں کورونا وائرس سے مزید 49 افراد جان بحق

پاکستان میں کورونا وائرس سے آج مزید 49 افراد جان کی بازی ہار گئے جس کے بعد اموات کی تعداد 20808 ہوگئی جبکہ متاثرہ مریضوں کی تعداد 922321 ہے۔ اسلام آباد میں کورونا سے 3 ، سندھ میں کورونا سے 19 ، آزاد کشمیر میں کورونا سے 1، پبجاب میں کورونا سے 17 ، خیبرپختونخوا میں کورونا سے 6 افراد جاں بحق ہوئے جس کے بعد ملک بھر میں کورونا وائرس سے جاں بحق افراد کی مجموعی تعداد 20808 ہوگئی ہے۔ پاکستان میں کوروناوائرس سے جاں بحق مریضوں کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت سندھ میں 5039 ، بلوچستان میں 280 ، خیبرپختونخوا میں 4079 ، آزاد کشمیر میں 544 ،اسلام آباد میں 760 ، گلگت بلتستان میں 107، پنجاب میں 9999 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ یاد رہے اس سے قبل محکمہ صحت پنجاب نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ پنجاب میں کورونا وائرس سے آج 17 مریض دم توڑ گئے جس کے بعد صوبے بھر میں اموات کی مجموعی تعداد 9999 ہوگئی ہے۔

ویکسین کی ایک اور کھیپ پاکستان پہنچ گئی

پی آئی اے کی پروازکورونا ویکسین لیکرچین سے اسلام آباد ایئرپورٹ پہنچی۔ سائینو ویک کورونا ویکسین کی 5 لاکھ ڈوزلائی گئی ہیں،کورونا ویکسین کی کھیپ فیڈرل ای پی آئی کےدفترمنتقل کردی گئی ہےذرائع وزارت صحت سائینوویک کورونا ویکسین حکومت پاکستان نےچینی کمپنی سےخریدی ہے،

دودھ کا باقاعدہ استعمال مضر کولیسٹرول کو کم کرتا ہے

اس نئی تحقیق میں 20 لاکھ افراد کو شامل کیا گیا ہے۔ اگرچہ دودھ پینے والوں کے جسم میں چکنائی زیادہ ہوتی ہے لیکن مضر کولیسٹرول کی سطح کم رہتی ہے اور لامحالہ امراضِ قلب کا خطرہ کم کم ہوجاتا ہے۔ لیکن اس کی مکمل سائنسی وجہ سامنے نہیں آسکی کیونکہ ہم دودھ کو قدرے مختلف انداز میں ہضم کرتے ہیں۔

24 مئی کو انٹرنیشنل جرنل آف اوبیسٹی میں شائع ایک طویل تحقیق کے مطابق یونیورسٹی آف ریڈنگ، یونیورسٹی آف ساؤتھ آسٹریلیا اوریونیورسٹی آف آکلینڈ کے سائنسدانوں نے برطانیہ میں لگ بھگ 20 لاکھ افراد کا ڈیٹا دیکھا ہے۔ اس میں جینیاتی سطح پردودھ پینے والے افراد کا جائزہ لیا گیا ہے۔ انہوں نے دیکھا ہے کہ ایک جینیاتی تبدیلی کی وجہ سے وہ لیکٹوز ہضم کرلیتے ہیں اور اسی بنا پر ان میں دودھ پینے کی عادت پیدا ہوجاتی ہے

اگرچہ دودھ پینے کی عادت باڈی ماس انڈیکس (بی ایم آئی) میں اضافے کی وجہ بنتی ہے لیکن اس سے اچھے اور برے دونوں قسم کے کولیسٹرول کم ہوتے ہیں۔ مجموعی طورپردودھ پینے سے امراضِ قلب میں 14 فیصد تک کمی ہوتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دودھ سیرشدہ چکنائی والی غذا ہونے کے باوجود بھی یہ دل کی بیماریوں کی وجہ نہیں بنتا۔ یعنی یہ سرخ گوشت جیسا خطرناک ہرگز نہیں ہے

ماہرین کہتے ہیں کہ شاید دودھ میں کوئی ان دیکھا کیمیائی مرکب ہے جو دل کو تندرست رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ دوسری جانب یہ رگوں اور شریانوں کی تنگی کو بھی دور کرتا ہے۔

ندوستانی وائرس مسئلہ

بھارتی کورونا وائرس بھی پاکستان پہنچ گیا،وزارت قومی صحت نے تصدیق کر دی ،جنوبی افریقی ویری انٹ کے سات اوربھارتی ویری انٹ کے ایک کیس کی تصدیق ہوئی ہے،بھارتی اور جنوبی افریقی کیسز کی کنٹیکٹ ٹریسنگ بھی شروع کر دی گئی بھارتی کورونا ویری انٹ بھی پاکستان پہنچ گیا ،وزارت قومی صحت نے تصدیق کر دی وزارت صحت کے مطابق وائرس کی بھارتی قسم کا یہ ملک میں پہلا کیس ہے،بھارتی اور جنوبی افریقی کیسز کی کنٹیکٹ ٹریسنگ بھی شروع کر دی گئی، جنوبی افریقی ویری انٹ کے سات، بھارتی ویری انٹ کے ایک کیس کی تصدیق ہوئی ہےوزارت صحت کے مطابق وائرس کی عالمی اقسام کی موجودگی کے باعث گائیڈ لائنز پر عمل کی مزید ضرورت ہے،ماسک کے استعمال اور کورونا ویکسینیشن کی بھی ضرورت ہے، وزارت صحت کے مطابق مئی کے پہلے تین ہفتوں میں حاصل کردہ نمونوں سے وائرس کی تصدیق ہوئی، نمونوں کی جانچ قومی ادارہ صحت میں کی گئی،