صحت

غزہ میں اسرائیلی فورسز کی دہشت گردی جاری ہے۔ اسرائیلی جنگی طیاروں کی تازہ بمباری میں مزید سینتیس نہتے فلسطینی شہید ہوگئے۔ ایک ہفتے کے دوران شہید ہونےوالے افراد کی تعداد ایک سوبانوے ہوگئی۔ شہدا میں اٹھاون بچے اور چونتیس خواتین بھی شامل ہیں۔ ایک ہزار سے زائد زخمی مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ غزہ شہر ملبے کا ڈھیر بن چکاہے۔ عالمی میڈیا ہاوسزاور رہائشی عمارتیں تباہ ہوچکی ہیں۔ مظلوم فلسطینی مدد کےلیے دنیا کی طرف دیکھ رہے ہیں لیکن تاحال عالمی برداری کی جانب سے اسرائیل کو لگام ڈالنے کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات سامنے نہیں آئے۔ بے قابو اسرائیلی فورسز کو لگام نہ ڈالی جاسکی۔ غزہ میں وقفے وقفے سے خوفناک بمباری جاری ہے۔اسرائیلی فورسز نے عالمی میڈیا کے دفاتر کو بھی نہ بخشا۔کئی میڈیا دفاتر پر بم برسادییے۔ رہائشی عمارتیں بھی ملبے کا ڈھیر بن گئیں۔ غزہ میں ہر طرف چیخ و پکار سنائی دی۔اسرائیلی فضائیہ نے رات گئے حماس رہنما کے گھر پر حملہ کر کے ایک اور عمارت کو بھی زمین بوس کر دیا۔ کئی ٹن وزنی دھماکاخیز مواد برسا کر ایک سرنگ بھی تباہ کردی۔غیرملکی خبرایجنسی کے مطابق غزہ میں ایک ہفتے کے دوران ایک ہزار سے زائد گھر اور رہائشی و سرکاری عمارتیں تباہ کی جاچکی ہیں ۔ غزہ میں غذائی قلت کا بحران بھی سر اٹھانے لگا ہے۔ہزاروں فلسطینی بے گھر ہوچکے ہیں۔ اسرائیلی دہشت گردی کے باوجود غزہ کےعظیم فرزندنے شہیدمسجدکے مینارپرکھڑے ہوکراذان دی۔غزہ میں دس سالہ فلسطینی بچی نےعالمی ضمیر کو جنجھوڑ کر رکھ دیا،، نم انکھوں سے کہا اسرائیل نے فلسطینی بچوں کے خواب کچل ڈالے ،، ہماری زندگیاں اجیرن ہوچکی ہیں،حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ نے قطر میں کارکنوں اور حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیت المقدس ہم سب کی ذمہ داری ہے۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے غزہ میں عام شہریوں کی شہادت پر افسوس اور میڈیا ہاؤسز پر اسرائیلی حملے پر تشویش کا اظہارکیا ہے۔مغربی کنارے میں بیت اللحم سمیت کئی شہروں میں فلسطینیوں نے مظاہرے کئے، مظاہرین پر اسرائیلی فورسز نے طاقت کا بے دریغ استعمال کیا۔ صیہونی فورسز نے نوجوانوں پر فائرنگ کر دی جس سے متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ اسرائیلی فوجیوں نے میڈیا کے نمائندوں کوبھی دھکے دیئے۔

صحت

کرونا ویکسین کی افادیت کو ایک بار پھر ایک بڑی طبی تحقیق کے ذریعے ثابت کر دیا گیا ہے، ریسرچ میں سامنے آیا ہے کہ ویکسین کی ایک خوراک سے گھر میں وائرس کے پھیلاؤ میں 50 فی صد سے زائد کمی آ جاتی ہے۔پبلک ہیلتھ انگلینڈ (پی ایچ ای) کی جانب سے شائع ہونے والی اس تحقیق میں کہا گیا ہے کہ فائزر یا آسٹرا زینیکا کی ویکسین کی ایک خوراک گھر میں ایک فرد سے دیگر افراد میں کرونا کی منتقلی کو پچاس فی صد سے بھی زیادہ کم کر دیتی ہے۔ریسرچ کے دوران یہ معلوم ہوا کہ وہ افراد جنھیں ویکسین کی پہلی خوراک دی گئی تھی، جب 3 ہفتے بعد وہ وائرس سے متاثر ہوئے تو وہ ویکسین نہ لینے والوں کی نسبت اپنے گھر والوں میں کم وائرس پھیلانے کا سبب بنے۔اس طبی تحقیق میں 24 ہزار گھروں کے 57 ہزار سے زائد افراد کے ڈیٹا کا ویکسین نہ لگوانے والے تقریباً 10 لاکھ کیسز سے تقابل کیا گیا، اور یہ نتیجہ حاصل ہوا کہ ویکسین لینے والے افراد اپنے گھروں میں ویکسین نہ لینے والوں کی نسبت نصف سے بھی کم تناسب سے وائرس پھیلاتے ہیں۔برطانوی وزیر صحت میٹ ہینکاک نے اس تحقیق کے نتائج پر بیان دیتے ہوئے اسے ایک شان دار خبر قرار دیا، اور کہا کہ ہم پہلے ہی جانتے تھے کہ ویکسین زندگیاں بچاتی ہے، تاہم یہ تحقیق حقیقی دنیا کا تفصیلی ڈیٹا ہے، جو دکھا رہی ہے کہ اس سے وائرس کا پھیلاؤ بھی کم ہوتا ہے۔میٹ ہنکاک کا کہنا تھا ریسرچ سے اس بات کو تقویت ملی ہے کہ ویکسین وبا سے نکلنے کا بہتری ذریعہ ہے، یہ آپ کی اور آپ کے گھر والوں کی حفاظت کرتی ہے۔ایک اور طبی تحقیق میں بھی یہ بات سامنے آئے تھی کہ ویکسین کی ایک خوراک کے 4 ہفتوں بعد وائرس پیدا ہونے کا خدشہ 65 فی صد سے زائد کم ہو جاتا ہے۔

کورونا وائرس

کوروناوبا کے باعث مزید 120 افراد جاں بحق ہوگئے جب کہ 4 ہزار سے زائد مثبت کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں مزید 2 ہزار 869 مثبت کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 38 ہزار 616 کورونا ٹیسٹ کئے گئے جس کے بعد مجموعی ٹیسٹس کی تعداد 12,310,87 ہوگئی ہے۔گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں مزید 2 ہزار 869 مثبت کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ اس طرح پاکستان میں کورونا کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 867,438 ہوگئی ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک سندھ میں 2 لاکھ94 ہزار 251 ، پنجاب میں 3 لاکھ 22 ہزار 117، خیبر پختونخوا میں ایک لاکھ 25 ہزار 392، اسلام آباد میں 78 ہزار 560، بلوچستان میں 23 ہزار 655 ، آزاد کشمیر میں 18 ہزار 056 اور گلگت بلتستان میں 5 ہزار 407 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت ملک بھر میں کورونا کے فعال مریضوں کی تعداد76 ہزار 536 ہے۔ جب کہ 4 ہزار سے زائد مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں کورونا سے مزید 104 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں جس کے بعد اب اس وبا سے جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد مجموعی طور پر 19 ہزار 210 ہوگئی ہے۔
این سی او سی کے مطابق کورونا سے ایک دن میں 5 ہزار 200 مریض صحت یاب ہوئے جس کے بعد صحت یاب ہونے والے مریضوں کی تعداد 771,692 ہوگئی ہے۔

وزیراعظم پمز کا دورہ کریں

وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں سب سے بڑے سرکاری پمز اسپتال کا اچانک دورہ کیا اور کرونا وارڈ میں طبی سہولیات کا جائزہ لیا،،وزیراعظم کو کرونا مریضوں کے لیے آکسیجن سمیت دیگر سہولیات پر بریفنگ دی گئی،، وزیراعظم نے کہا کرونا کی حالیہ لہر انتہائی خطرناک ہے،احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد ضروری ہےوزیراعظم عمران خان کا اچانک پمز اسپتال کادورہوزیراعظم پمز اسپتال میں کرونا وارڈ کا دورہ کیا اور مریضوں کی عیادت کی وزیراعظم نے ڈاکٹرز سے مریضوں کو اسپتال میں فراہم کی جانے والی سہولتوں کے بارے بھی دریافت کیا،نیٹ کلپ شارٹس:::دورے کے دوران وزیراعظم نے کرونا وارڈ میں موجود ڈاکٹروں سے ملاقات کی، ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹرز اور اسپتال انتظامیہ نے وزیراعظم کو مریضوں کو فراہم کی جانے والی سہولتوں سے بھی آگاہ کیا،، اپنے دورے کے دوران وزیراعظم نے ڈاکٹرز سے مریضوں کے لیے دستیاب ادویات کے بارے میں بھی معلوم کیا،،
بریدنگ سپیس:واضح رہے کہ پاکستان میں کرونا سے اموات کی مجموعی تعداد اٹھارہ ہزارنو سو ترانوے تک پہنچ گئی ہے جبکہ متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد آٹھ لاکھ ،اکسٹھ ہزار چار سو تہتر ہوگئی ہے،، ملک بھر میں کرونا ویکسین سینٹرز بھی بنادیے گئے ہیں جہاں سے اب تک لاکھوں لوگوں کو کرونا ویکسین لگائی جاچکی ہے

بھارت کوویڈ

بھارت میں ایک ہی دن میں مزید 3ہزار سات سو سے زائد افراد کرونا سے ہلاک ہوگئے،صورتحال بے قابو ہوگئی،،دریائے گنگا نے بھی لاشیں اگلنا شروع کردیں بھارت کورونا کے شکنجے سے نکل نہ سکا مودی سرکارکی لاپروائی سے کرونا بے قابو انتظامیہ کی مسلسل لاپروائی سے کرونا کی ہولناکیاں سامنے آنے لگیں ریاست بہار کے دریا گنگا نے چالیس افراد کی لاشیں اگل دیں انتظامیہ کا کہناہے گنگاکنارے سے ملنے والی لاشیں یقینی طورپرکرونا سے مرنے والوں کی ہیں بھارت میں گزشتہ چوبیس گھنٹے میں مزید تین لاکھ چھیاسٹھ ہزارسے زائدافراد کرونا کا شکاربن گئے ایک ہی دن میں مرنے والوں کی تعداد تین ہزارسات سو اڑتالیس رپورٹ کی گئی ہے۔ برطانوی میڈیا نے بھارت میں کروناپھیلاؤ کاسبب کمبھ میلے کوقراردیدیا،،رپورٹ کے مطابق ۔۔۔ میلےمیں لاکھوں افرادشریک ہوئے تھے حکومت معاملے پرسنجیدگی سےغورکرناچاہیے تھایوپی کے شہرغازی آبادمیں ہندؤں کی آخری رسومات کی ادائیگی میں مدد کے لیےمسلم کمیونٹی سامنے آگئی، ادھر اروناچل پردوس میں کروناپابندیوں پرعملدرآمدکےلئے فوج تعینات کردی گئی ہے

صحت

رمضان کے دوران افطار کے فوراً بعد چائے کی طلب ہوتی ہے، طبی ماہرین کی جانب سے قہوے کا استعمال ہر حال میں مفید قرار، قہوے کے استعمال سے غذا جَلد ہضم ہو جانے سمیت متعدد طبی فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔دیکھئے اس رپورٹ میں
رمضان کے دوران افطار کے فوراً بعد چائے کی طلب ہوتی ہے، ماہرین کی جانب سے تجویز کیا جاتا ہے کہ افطار کے بعد دودھ والی چائے کے استعمال کے بجائے مختلف اقسام کے قہوے جیسے کہ دار چینی، سبز چائے، لیمن گراس، ادرک اور سونف کا قہوہ پینا نا صرف غذا کو جَلد ہضم کر کے تروتازہ محسوس کرواتا ہے بلکہ بہتر نیند، مضر صحت مادوں کے اخراج ، کولیسٹرول اور شوگر کی سطح متوازن رکھنے میں بھی مدد فراہم کرتا ہے۔طبی و غذائی ماہرین کے مطابق قہوہ کا باقاعدہ استعمال جہاں وزن میں کمی کا سبب بنتا ہے وہیں رمضان کے دوران اس کے استعمال کے فوائد دگنے ہو جاتے ہیں اور قہوے کے استعمال سے وزن مزید تیزی سے کم ہونے سمیت جلد کی خوبصورت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔رمضان کے دوران قہوے کے استعمال سے مجموعی صحت پر حاصل ہونے والے چند فوائد مندرجہ ذیل ہیں:قہوہ میں موجود قدرتی مرکبات نظام ہاضمہ پر مثبت اور پر سکون اثرات مرتب کرتے ہیں، محققین کا ماننا ہے کہ سبز چائے میں موجود پولی فینولز معدے میں صحت کے لیے فائدہ مند بیکٹریا کی افزائش کو بڑھاتے ہیں۔رمضان کے دوران مرغن اور میٹھی غذاؤں کے استعمال کے نتیجے میں ذیابطیس اور ہائی کولیسٹرول کے مریضوں کے لیے بہت سے مسائل جنم لیتے ہیں۔ماہرین کےمطابق ذیابطیس ایک میٹابولک مرض ہے، روزانہ 2 سے 3 کپ قہوہ پینا ذیابطیس ٹائپ ٹو کا خطرہ 42 فیصد تک کم کر دیتا ہے جبکہ رمضان کے دوران افطار کے بعد ایک سے دو کپ قہوے کا استعمال نہایت مفید ثابت ہوتا ہے اور خون میں شوگر کی سطح متوازن رہتی ہے۔غذائی ماہرین کے مطابق رمضان کے آتے ہی بہت سے افراد اُن کے پاس معدے کی شکایت لے کر آ تے ہیں۔ماہرین کے مطابق روزہ افطار کرنے کے دوران مکس فروٹ چاٹ، چنا چاٹ ، دودھ اور دہی سے بنے مشروبات اور تلی ہوئی غذاؤں کے استعمال کے سبب معدے کی کاکردگی خراب ہو جاتی ہے اور روزے دور پیٹ سے متعلق متعدد بیماریوں میں گِھر جاتے ہیں جس کا حل ادرک اور سبز پتی کے قہوے موجود ہے۔غذائی ماہرین کے مطابق قہوہ میں موجو تیزابیت آنتوں کی صفائی کرتی ہے جس سے جسم کو غذا ہضم اور جذب کرنے میں مدد ملتی ہے۔قہوے کے استعمال کے نتیجے میں آنتوں کی سوجن میں کمی آتی ہے۔قہوے کے بہترین نتائج حاصل کرنے کے لیے اس میں لیموں اور شہد کا اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے۔

صحت

دل کا دورہ ایک خطرناک بیماری ،بعض اوقات یہ بیماری مریض کو سنبھلنے کا موقع تک نہیں دیتی ،کئی بار علامات ظاہر ہونے کے بعد بھی اگر مریض کا صحیح وقت پر علاج نہ ہو تو وہ شخص چند گھنٹوں میں مرسکتا ہے،دیکھیئے اس رپورٹ میں ہر سال کروڑوں افراد کو دل کے دورے کا سامنا ہوتا ہے جن میں سے لاکھوں کے لیے زندگی کا سفر ختم بھی ہوجاتا ہے لیکن ہارٹ اٹیک کی غیر نمایاں علامات بھی جن کا علم بیشتر اکثر افراد کو نہیں ہوتا جس کے سبب انہیں انتہائی تکلید سے گزرنا پڑتا ہے۔
ہارٹ اٹیک کی روایتی علامات جیسے سینے میں درد یا دباﺅ، ٹھنڈے پسینے، انتہائی کمزوری وغیرہ تو سب کو معلوم ہی ہے مگر کچھ ایسی علامات بھی ہوتی ہیں جو بیشتر افراد کو معلوم نہیں اور انہیں معمولی سمجھ کر نظر انداز کردیا جاتا ہے تاہم وہ دل کے دورے کے خطرے کی نشاندہی کررہی ہوتی ہیں۔یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی ہے کہ ہر4 میں سے ہارٹ اٹیک کے ایک مریض میں کچھ ایسی غیرنمایاں علامات ہوتی ہیں جن میں سانس لینے میں مشکلات، بے انتہا تھکاوٹ اور معدے میں تکلیف شامل ہیں۔طبی جریدے یورپین ہارٹ جرنل اکیوٹ کارڈیووسکولر کیئر میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ ان غیر نمایاں علامات والے مریضوں میں ہلاکت کا امکان سینے میں تکلیف جیسی عام علامت کا سامنا کرنے والوں سے زیادہ ہوتا ہے۔ڈنمارک کے نورڈیلانڈز ہاسپٹل کی تحقیق میں شامل ماہرین کا کہنا تھا کہ ہم نے ہارٹ اٹیک کی ایسی غیرنمایاں علامات کو دریافت کیا ہے جو معمر افراد بالخصوص خواتین میں بہت زیادہ عام ہوتی ہیں، درحقیقت ان علامات کا سامنا کرنے والے افراد کو علم نہیں ہوتا کہ انہیں فوری طبی امداد کی ضرورت ہے۔ہارٹ اٹیک کا سامنا کرنے والے مریضوں کو جلد طبی امداد فراہم کی جائے تو خون کے بہاؤ کو بحال کرنے اور موت کا خطرہ کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔اس تحقیق کے دوران ہارٹ اٹیک کی ابتدائی علامات، طبی سروسز کے ردعمل اور 30 دن کے دوران اموات جیسے عوامل کا موازنہ کیا گیا۔ اس مقصد کے لیے 2014 سے 2018 کے دوران ڈنمارک میں طبی اداروں کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا۔محققین نے 5 سال کے عرصے میں ہارٹ اٹیک کے 8336 میں سے 7222 مریضوں میں بنیادی علامات کو دریافت کیا۔سینے میں تکلیف کی علامت سب سے عام تھی جس کا سامنا 72 فیصد ہوا جبکہ 24 فیصد میں غیر نمایاں علامات رپورٹ ہوئیں جن میں سب سے عام سانس لینے میں مسائل تھی۔سینے میں تکلیف کا سامنا 30 سے 59 سال کے مردوں میں سب سے عام علامت تھی جبکہ غیر نمایاں علامات معمر مریضوں میں دریافت کی گئیں۔سینے میں تکلیف کا سامنا کرنے والے ہارٹ اٹیک کے مریضوں میں سے 95 فیصد نے ایمرجنسی امداد کے لیے رابطہ کیا جبکہ غیرنمایاں علامات والے مریضوں میں یہ شرح محض 62 فیصد تھی۔سینے میں تکلیف والی علامت کے مریضوں میں 30 دن کے اندر موت کی شرح 3 سے 5 فیصد تھی جبکہ غیرنمایاں علامات والے مریضوں میں یہ 15 سے 23 فیصد تھی۔ماہرین نے زیادہ گہرائی میں جاکر موازنہ کیا تو انہوں نے دریافت کیا کہ سینے میں تکلیف والے مریضوں میں 30 دن کے اندر اموات کی شرح 4.3فیصد جبکہ غیر نمایاں علامات والے مریضوں میں 15.6 فیصد تھی۔محققین نے بتایا کہ نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ سینے میں تکلیف والے ہارٹ اٹیک مریضوں کو ہنگامی امداد ملنے کا امکان 3 گنا زیادہ ہوتا ہے۔محققین نے بتایا کہ سانس لینے میں مشکلات، شدید تھکاوٹ، دماغی شعور متاثر ہونا اور معدے میں تکلیف سینے میں تکلیف کے بعد سب سے عام ہارٹ اٹیک کی علامات ہیں مگر بیشتر کیسز میں لوگوں کو علم ہی نہیں ہوتا کہ اس کا دل کے دورے سے تعلق ہے

کورونا

کوروناوبا کے باعث مزید 140 افراد جاں بحق ہوگئے جب کہ 4 ہزار سے زائد مثبت کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 44 ہزار 846 کورونا ٹیسٹ کئے گئے جس کے بعد مجموعی ٹیسٹس کی تعداد 12,101,83 ہوگئی ہے۔گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں مزید 4 ہزار 298 مثبت کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ اس طرح پاکستان میں کورونا کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 850,131 ہوگئی ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک سندھ میں 2 لاکھ89 ہزار 646 ، پنجاب میں 3 لاکھ 14 ہزار 517، خیبر پختونخوا میں ایک لاکھ 22 ہزار 520، اسلام آباد میں 77 ہزار 414، بلوچستان میں 23 ہزار 016 ، آزاد کشمیر میں 17 ہزار 660 اور گلگت بلتستان میں 5 ہزار 358 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت ملک بھر میں کورونا کے فعال مریضوں کی تعداد83 ہزار 699 ہے۔ جب کہ 5 ہزار سے زائد مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں کورونا سے مزید 140 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں جس کے بعد اب اس وبا سے جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد مجموعی طور پر 18 ہزار 677 ہوگئی ہے۔این سی او سی کے مطابق کورونا سے ایک دن میں 4 ہزار 631 مریض صحت یاب ہوئے جس کے بعد صحت یاب ہونے والے مریضوں کی تعداد 747,755 ہوگئی ہے۔

کینسر صحت

امریکا میں ہونے والی ایک نئی تحقیق کے نتائج سے بریسٹ کینسر سمیت دیگر کئی اقسام کے کینسر کے علاج سے متعلق ایک نئی امید پیدا ہو گئی ہے۔ایک ریسرچ کی رپورٹ جرنل برائے نیچر پارٹنر جرنلز میں شائع ہوئی ہے، بریسٹ کینسر کا سبب بننے والا ہارمون میسی کینسر سینٹر کے محقق چارلس کلیوینجر اور ان کی لیب نے دریافت کیا ہے۔بریسٹ کینسر کا سبب بننے والے ہارمون کی دریافت سے کئی دیگر اقسام کے کینسر کا علاج بھی ممکن نظر آنے لگا ہے۔ورجینیا کامن ویلتھ یونی ورسٹی میں ہونے والی اس حالیہ تحقیق میں اس بات کے مضبوط شواہد ملے ہیں کہ چھاتی میں کینسر کی افزائش کا سبب بننے والا ایک ہارمون پروکلیٹین دراصل بریسٹ گروتھ کا سبب بنتا ہے، اور یہ حمل کے دوران ماں کے دودھ میں اضافے کی وجہ بھی ہوتا ہے۔محققین نے اس ہارمون کو بریسٹ کینسر کا اہم سبب قرار دیا ہے، انھوں نے خوش خبری سنائی کہ یہ ہارمون ٹارگیٹڈ دوا کی تیاری میں کافی مفید ثابت ہوگا، اور اس سے کئی قسم کے کینسر کا علاج کیا جا سکے گا۔محققین کے مطابق بریسٹ کینسر کا براہ راست سبب بننے والے اس ہارمون کے خلیات کی سطح پر پروٹین موجود ہوتا ہے، جسے رسیپٹرز کہتے ہیں۔ یہ ریسپٹرز بائیولوجیکل پیغامات وصول کرنے اور بھیجنے کے ساتھ خلیے کے افعال کو بھی ریگولیٹ کرتے ہیں۔

اسپرین صحت

ایک حیرت انگیز مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ باقاعدہ سے ضدِ سوزش ادویہ مثلاً اسپرین کھانے والے بوڑھے افراد فضائی آلودگی کے جز وقتی منفی اثرات سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔اگرچہ یہ ایک چھوٹا سا مطالعہ ہے جو ایک ہزار سفید فام بزرگوں پر کیا گیا ہے لیکن اس کے نتائج بہت حیران کن ہیں۔ امریکا میں بوسٹن کے علاقے کے باسیوں میں یہ تجزیہ کیا گیا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ فضائی آلودگی میں موجود کاربن اور دیگر خطرناک ذرات سانس لینے میں دقت پیدا کرتے ہیں اور ساتھ ہی یہ ذرات دماغ پراثرانداز ہوکر اکتسابی اور ذہنی صلاحیتوں مثلاً یادداشت وغیرہ کو متاثر کرتے ہیں۔اگرچہ سائنس داں اسپرین اور دماغی مثبت اثرات کے درمیان کوئی براہِ راست تعلق دریافت نہیں کرسکے تاہم مطالعے میں شامل جن افراد نے اندرونی سوزش (انفلیمیشن) دور کرنے والی غیر ایسٹرائیڈ ادویہ (این ایس اے آئی ڈی ) استعمال کیں انہوں نے دیگر کے مقابلے میں یادداشت، ارتکازِ توجہ اور ہدایت پر عمل کرنے کے تمام ٹیسٹ میں غیرمعمولی بہتری دکھائی۔اپنی رپورٹ میں ماہرین نے کہا ہے کہ فضائی آلودگی سے بھرپور ماحول میں رہنے والے بالخصوص بزرگوں میں اکتسابی صلاحیت پر جزوقتی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور اسپرین اس ضمن میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ جب دماغی سوزش اور جلن میں کمی ہوجائے تو اس سے دماغ کی کارکردگی بہتر ہوجاتی ہے۔