پھل چیٹ

رمضان المبارک میں دستر خوان کی زینت، کم و بیش پوری دنیا میں بڑے ذوق و شوق سے کھائی جاتی ہے ،غزائیت سے بھر پور، وٹامنز، پانی اور دیگر اہم اجزاشامل، جب سارے اجزا مل جائے تو اس کی صورت اور لطف دوبالا ہوجاتا ہے،جانیے اس رپورٹ میں
آج ہم فروٹ چاٹ کے انمول فوائد کے بارے میں جانیں گے، اس میں ایسے اجزاء ہوتے ہیں جن کی جسم کو بہت ضرورت ہوتی ہے اور ان کو حاصل کرنے سے نہ صرف صحت اچھی رہتی ہے بلکہ جلد ، ناخن اور بال بھی مضبوط اور توانا رہتے ہیں۔
فروٹ روزے دار کی دن بھر کی کھوئی ہوئی توانائی کو بحال کرتے ہیں اور جسم میں ہر اس چیز کی کمی کو پورا کرتے ہیں جس کی جسم کو ضرورت ہوتی ہے، خاص طور پر وٹامنز، پانی اور دیگر اہم اجزاشامل ہیں۔فروٹ چاٹ کا سب سے اہم فائدہ یہ ہے کہ اس میں بہت سے پھلوں کے اہم اجزا بیک وقت جسم کو حاصل ہو جاتے ہیں۔الگ الگ پھلوں کا استعمال اکثر طبعیت کو گراں گزرتا ہے جب کہ فروٹ چاٹ میں کم مقدار میں شامل کیے گئے پھل کھانے کا لطف ہی کچھ اور ہوتا ہے۔فروٹ چاٹ کھانے سے نظام ہاضمہ درست رہتا ہے اور صحت بھی بحال رہتی ہے۔فروٹ چاٹ طاقت سے بھرپور ایک مکمل غذا ہے ، خاص طور پر رمضان المبارک میں فروٹ چاٹ نہ صرف ہر کسی کو پسند ہوتی ہے بلکہ دستر خوان کی زینت بھی بنتی ہے۔فروٹ چاٹ زبان کو ذائقہ کے علاوہ صحت، جلد، جسم ، بال اور ناخنوں کو بھی تقویت پہنچاتی ہے۔فروٹ چاٹ کے انمول فوائد جن سے آگاہ ہونا ضروری ہے فروٹ روزے دار کی دن بھر کی کھوئی ہوئی توانائی کو بحال کرتے ہیں فروٹ چاٹ کھانے سے نظام ہاضمہ درست رہتا ہے

BANANA HEALTH

وٹامنز سے بھرپور ایسا صحت بخش پھل ، جسے کم و بیش پوری دنیا میں بڑے ذوق و شوق سے کھایا جاتا ہے، غذائی فوائد تو ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں ، پھل تو پھل اسکا چھلکا بھی ہے نایاب ، چھلکے میں چھپے خوبصورتی کے راز جانتے ہیں اس رپورٹ میں۔۔
مسوں سے نجات رات کو سونے سے قبل مسوں پر کیلے کا چھلکا رکھ کر پٹی باندھ لیں۔ اس عمل کو روزانہ دہرائیں، کچھ ہی عرصے میں مسے ختم ہوجائیں گے۔ جھائیوں کا خاتمہ کیلے کےچھلکوں میں اینٹی آکسیڈینٹ (مانع تکسید) پائے جاتے ہیں، جو آپ کی جلد پر جادوئی اثرات مرتب کرتے ہیں۔ چھلکے کے اندرونی حصے کو اپنے چہرے پر ملیں، ڈیڑھ گھنٹے بعد چہرے کو پانی سے دھو لیں۔ چند ہی دنوں میں آپ کے چہرے کی جلد جھائیوں سے پاک اورنرم و ملائم ہوجائے گی۔ موتی جیسے سفید دانت سفید و چمک دار دانت چہرے کی خوبصورتی کوچار چاند لگا دیتے ہیں، لیکن اس کے لیے آپ کو کیلے کا چھلکا چبانے کی قطعی کوئی ضرورت نہیں۔ آپ صرف چھلکے کے اندرونی حصے کو اپنے دانتوں پر رگڑیں۔ یہ عمل دو ہفتے تک روازنہ د ہرائیں، فرق آپ کو خود ہی نظر آجائے گا۔ مچھر کے کاٹنے سے ہونے والی جلن کا موثر علاج مچھر کہنے تو ایک معمولی جان دار ہے لیکن اگر یہ کاٹ لے تو پھر آپ متاثرہ جگہ کو کھجا کھجا کر زخم بنا دیتے ہیں۔ آپ پکنک پر ہوں یا کسی آؤٹ ڈور پارٹی میں۔ جب بھی مچھر آپ کو کاٹے، صرف کیلے کے چھلکے کو متاثرہ جگہ پر رگڑیں۔ جلن اور سرخی فوراً ختم ہوجائے گی۔ کیلے کا چھلکا، حسن کا خزانہ کیلا وٹامنز سے بھرپور ایسا صحت بخش پھل ہے جسے کم و بیش پوری دنیا میں بڑے ذوق و شوق سے کھایا جاتا ہے چھلکے میں چھپے خوبصورتی کے راز

PRESCRIBTION MEDICINE

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے ڈاکٹروں کی جانب سے مریضوں کو ادویات کے نسخوں پر جینرک کے بجائے برانڈز نام لکھنے کے خلاف عوامی شکایات پر پر ایکشن لے لیا ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے ڈاکٹروں کی جانب سے مریضوں کو ادویات کے نسخوں پر جینرک کے بجائے برانڈز نام لکھنے کے خلاف عوامی شکایات پر پر ایکشن لے لیا اور چاروں صوبوں، اسلام آباد، گلگت بلتستان و آزاد کشمیر کے سیکریٹریز صحت کو مراسلے جاری کردیے۔مراسلوں میں کہا گیا ہے کہ طبی نسخوں پر برانڈز کانام لکھنا طبی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے۔ ڈاکٹروں کو نسخوں میں برانڈز کے نام لکھنے سے روکنے اور جینرک نام لکھنے کیلئے ضروری ایکشن لیا جائے۔
ڈاکٹر اپنے نسخہ جات میں ادویات کے برانڈ نام لکھنے کے بجائے “جینرک” نام لکھیں۔ ڈاکٹروں کی جانب سے ادویات کے برانڈ نیم لکھنے کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ برانڈز کی مہنگی ادویات سے مریضوں پر مالی دباؤ پڑتا ہے۔

Sindh Govt Corona New Notification

سندھ حکومت نے رمضان میں تاجر برادری کی مشکلات کم کرنے کی ٹھان لی ۔ محکمہ داخلہ نے بازاروں کی نئے اوقات کار کا حکم نامہ جاری کردیا ۔ تجارتی سرگرمیاں جمعہ اور اتوار کے بجائے اب ہفتہ اور اتوار مکمل بند رہیں گی سندھ میں اب بازار اور مارکیٹیں ہفتے اور اتوار کو بند رہیں گی۔جمعے کی چھٹی ختم کر دی گئی۔ محکمہ داخلہ سندھ نے کورونا ایس او پیز کے تحت مارکیٹوں اور بازاروں کے نئے اوقات کار کے حوالے سے حکم نامہ جاری کردیا حکم نامے کے مطابق ۔۔مارکیٹیں اور تجارتی مراکز سحری سے شام 6 بجے تک کھولنے کی اجازت ہوگی۔پابندوں کا نفاذ ایک ماہ تک رہے گا۔۔ سولہ مئی تک سیاسی، ثقافتی، سماجی اور کھیلوں کی ہرطرح کی سرگرمیوں پربھی پابندی ہوگی۔۔ ریسٹورنٹس میں ان ڈورڈائننگ کی فراہمی پر مکمل پابندی رہے گی۔۔آؤٹ ڈور کھانوں کی ٹائمنگ افطاری کےبعد سے رات12بجےتک ہوگی۔۔ ہفتے اور اتوار کو بین الصوبائی ٹرانسپورٹ‌ بھی بند رہے گی

DATES

نبی کی سنت, چھوٹے، بڑے، بزرگ سب ہی افراد کے لیے یکساں موزوں غذا , رمضان کا مہینہ آتے ہی استعمال اور مانگ میں اضافہ , صحت پر اَن گنت فوائد کی حامل, انسانی دماغ کے لیے بنیادی جز قرار آخر یہ کس پھل کی بات ہورہی ہے جس کے فوائد ہیں بے شمار ،جانتے ہیں اس رپورٹ میں کھجور کو سُپر فوڈ کا درجہ دیا جاتا ہے جس کے استعمال سے صحت پر اَن گنت فوائد حاصل ہوتے ہیں۔طبی ماہرین کے مطابق کھجور چھوٹے، بڑے، بزرگ سب ہی افراد کے لیے یکساں موزوں غذا ہے۔کھجور کی پاکستان سمیت دنیا کے متعدد ملکوں میں فصل ہوتی ہے، عربی ملک سعودی عرب میں کھجور کی تقریباً ایک سو سے زائد اقسام پائی جاتی ہیں۔ جبکہ دنیا کے متعدد ملکوں میں پیدا ہونے والی کھجوروں کی مجموعی اقسام 3000 سے زائد بتائی جاتی ہے۔اس حوالے سے غذائی ماہرین کی جانب سے کھجور کو طاقت اور فوراً توانائی فراہم کرنے کا اہم اور قدرتی ذریعہ قرار دیا جاتا ہے جس کے صحت پر فوائد ہی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ کھجور کھانے کے فوائد جہاں سائنس نے ثابت کیے ہیں وہیں اس کے استعمال سے حاصل ہونے والے فوائد اسلامی تعلیمات میں بھی ملتے ہیں۔کھجور کا استعمال افطار سمیت سحری میں بھی کیا جاتا ہے، اس کے استعمال سے صحت پر آنے الے فوائد اور مثبت اثرات مندرجہ ذیل ہیں۔ کھجور کا استعمال سنت سے بھی ثابت ہے اسی لیے مسلمان ممالک میں کجھور کا استعمال بڑی تعداد میں کیا جاتا ہے اور رمضان کا مہینہ آتے ہی اس کے استعمال اور مانگ میں اضافہ ہوجاتا ہے۔سحری کے اوقات میں اگر کھجور کا استعمال کر لیا جائے تو اس سے انسان خود کو سارا دن تروتازہ اور توانا محسوس کرتا ہے ، میٹھی غذا ہونے کے سبب کجھور کھانے سے مزاج خوشگوار اور بہتر ہوتا ہے۔غذائی ماہرین کی جانب سے کجھور کو انسانی دماغ کے لیے ایک بنیادی جز قرار دیا جاتا ہے، کجھور کے استعمال سے انسانی دماغ کی نشو نما ہوتی ہے، روزانہ کی بنیاد پر کم از کم دو کھجوریں لازمی کھانی چا ہئیں۔افطار میں کجھور سے روزہ کھولنے کے سبب تھکاوٹ، بوجھل پن فوراً غائب ہو جاتا ہے اور تازگی لوٹ آتی ہے۔طبی ماہرین کے مطابق کھجور پوٹاشیم اور میگنیشم حاصل کرنے کا اہم ذریعہ ہے، یہ بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے فائدہ مند ہے، کھجور کے استعمال سے ہائی بلڈ پریشر میں کمی آتی ہے اور بلڈ پریشر متوازن رہتا ہے ۔کجھور کا استعمال وزن میں کمی لانے والے افراد بھی کر سکتے ہیں، رمضان کے دوران جن کا مقصد روزے کے فوائد حاصل کرنے سمیت وزن میں کمی لانا بھی ہے وہ کجھور کا استعمال بلا جھجک کر سکتے ہیں، یہ توانائی بحال کرنے کے لیے بہترین آپشن اور حجم میں بہت چھوٹی ہوتی ہے۔ایسے افراد جو افطار یا سحر سے قبل ورزش کرتے ہیں انہیں کجھور کا استعمال لازمی کرنا چاہیے۔کھجور آئرن حاصل کرنے اور خون کی کمی دور کرنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے، آئرن پورے جسم میں آکسیجن فراہمی کو یقینی بناتا ہے، کجھور کے استعمال سے لال خلیوں کی افزائش ممکن ہوتی ہے۔کھجور کے صحت پر اَن گنت فوائد رمضان کا مہینہ آتے ہی استعمال اور مانگ میں اضافہ
کھجور ،انسانی دماغ کے لیے بنیادی جز قرار

PLASTIC

سائنسدانوں کی تحقیق، پلاسٹک ساز میں استعمال کیمیکل دماغ کو بہت شدید نقصان پہنچاسکتے ہیں،آئیے جانتے ہیں آخریہ نقصان دہ کیمیکلز ہیں کونسے جو انسانی دماغ پرمنفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں سائنسدانوں ںے تحقیق کے بعد کہا ہے کہ پلاسٹک سازی میں استعمال ہونے والے دو عام کیمیکل دماغ کو بہت شدید نقصان پہنچاسکتے ہیں۔پلاسٹک کی تھیلیاں ہوں یا بوتلیں ان میں بی پی اے اور بی پی ایس عام استعمال ہوتے ہیں۔ ان میں بسفینول اے کو بی پی اے اور بسفینول ایس کو بی پی ایس کہاجاتا ہے۔ ایک عرصے سے ان دونوں کیمیائی اجزا کے مضر اثرات پر بحث ہوتی رہی ہے لیکن حالیہ تحقیق سے بی پی اے اور بی پی ایس کے انسانی دماغی خلیات پر مضر اثرات ریکارڈ ہوئے ہیں اور شاید یہ منفی اثرات بہت دیر تک برقرار رہ سکتے ہیں۔بی پی اے کئی عشروں سے غذا، مشروبات اور دیگر اشیا کی پیکنگ میں استعمال ہورہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ اینڈوکرائن غدود کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ سرطان کی وجہ بھی بنتے ہیں۔ اس کے بعد بی پی اے سے پاک پلاسٹک سازی کا دور شروع ہوا لیکن کہیں کہیں اس سے پلاسٹک بن رہے ہیں۔پھر بی پی اے کی جگہ بسفینول ایس یا بی پی ایس کو پلاسٹک سازی میں متعارف کرایا گیا اور بعض تحقیقات اسے محفوظ قرار دیتی ہیں۔ لیکن اب ایک سال تک چوہوں پر کئے گئے تجربات سے معلوم ہوا ہے کہ خود بی پی ایس والے پلاسٹک بھی کم نقصاندہ نہیں ۔ یہ جین کی سرگرمی کو متاثرکرتے ہیں، ماں کے پیٹ میں بچوں کی دماغی خرابی کی وجہ بنتے ہیں۔ اس کے علاوہ نشوونما کو متاثر کرتے ہوئے جان لیوا بھی ثابت ہوسکتے ہیں۔اس ضمن میں پہلے ایک گولڈ فش پر تحقیق کی گئی جو ایک ماہ تک بی پی اے اور بی پی ایس والے ماحول میں رکھی گئی تھی۔ یہ تحقیقی بائے ریوتھ یونیورسٹی نے کی ہے جس میں مچھلی کے دماغ کا الیکٹروفزیالوجیکل جائزہ لیا گیا تھا۔ اس میں مچھلی کے دو بڑے دماغی خلیات پر غور کیا گیا جو موتھنر سیل کہلاتے ہیں اور اسے کئی طرح کے احساس اور شکار سے بچنے میں مدد دیتے ہیں۔ماہرین نے نوٹ کیا کہ پلاسٹ کے یہ اجزا مچھلی کے پورے اعصابی نظام کو متاثر کررہے ہیں۔ تحقیق سے وابستہ ایلسبتھ شرمر کہتی ہیں کہ مچھلیوں میں آہستہ آہستہ یہ نقصان رونما ہوا اور ایک ماہ میں اس کی واضح علامات سامنے آئیں۔ خیال ہے کہ عین اسی طرح بی پی ایس انسانوں کو بھی متاثرکرسکتا ہے۔ یہاں تک کہ بالغ انسان کے دماغ پر بھی اثر ڈال سکتے ہیں۔سائنسدانوں نے زور دیا ہے کہ پلاسٹک صنعت پی بی ایس کی جگہ کوئی نیا متبادل کیمیکل استعمال کرے کیونکہ یہ انسانوں کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔پلاسٹک سازی کے کیمیکلز دماغی خلیات کو نقصان پہنچاسکتے ہیں پلاسٹک کی تھیلیاں ہوں یا بوتلیں ان میں بی پی اے اور بی پی ایس کااستعمال عام

HEALTH IN RAMZAN

طبی ماہرین نے کورونا اور شدید گرمی کے دوران روزہ رکھنے والوں کو سخت احتیاط کا مشورہ دے دیا۔
کراچی سمیت مختلف علاقوں میں شدیدگرمی اور ساتھ ہی رمضان المبارک میں ماہرین صحت نے عوام الناس کوخبردار کیا ہے کہ سحر اور افطار میں بیمار اور صحت مند افراد متوازن غذاکھائیں، گرم اور خشک موسم کے روزے جسم میں پانی اور شوگر کالیول کم ہونے کا سبب بن سکتے ہیں۔ماہرین صحت کا کہنا ہےکہ سحر اور افطار میں کھجور، دودھ، دہی، لسی اور پھلوں کا زیادہ استعمال کیا جائے اور کم سے کم6 گھنٹے کی نیندضرور پوری کریں۔ماہرین صحت کے مطابق بلڈ پریشر اور ذیابیطس والے حضرات اپنے معالج سے پوچھ کر روزہ رکھ سکتے ہیں اور کورونا سے بچاؤ کےحفاظتی اقدامات ضرور اپنائیں۔

Corona virus

پاکستان میں کورونا سے ایک ہی روز کے دوران 135 اموات ہوئیں جو رواں سال اب تک ہونے والی سب سے زیادہ اموات ہیں۔ ملک میں کورونا سے ہلاکتوں کی تعداد 15754 ہو گئی ہے اور مجموعی کیسز 7 لاکھ 34423 تک جاپہنچے ہیں جب کہ فعال کیسز کی تعداد 76757 ہےگزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں کورونا کے 48092 ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 4681 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی جبکہ وائرس سے 135 افراد انتقال کر گئے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں کورونا سے ہلاکتوں کی تعداد 15754 ہو گئی ہے اور مجموعی کیسز 7 لاکھ 34423 تک جاپہنچے ہیں جب کہ فعال کیسز کی تعداد 76757 ہے۔سرکاری پورٹل کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں کورونا کے مثبت کیسز کی شرح 9.7 رہی۔اس کے علاوہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 3645 مریض کورونا سے صحتیاب بھی ہوئے جس کے بعد مجموعی طور پر صحتیاب ہونے والوں کی تعداد 6 لاکھ 41912 ہو گئی ہے۔سرکاری پورٹل کے مطابق سندھ میں کورونا کے مریضوں کی مجموعی تعداد 269840 ہوگئی ہے جب کہ 4530 افراد اب تک انتقال کرچکے ہیں۔پنجاب میں کورونا کے کل مریضوں کی تعداد 255571 ہے اور 7141 افراد وائرس میں مبتلا ہوکر جان سے جاچکے ہیں جب کہ بلوچستان میں مریضوں کی کل تعداد 20499 اور ہلاکتیں 219 ہو چکی ہیں۔خیبرپختونخوا میں کورونا کے مریضوں کی تعداد 101045 اور 2732 ہلاکتیں ہو چکی ہیں جبکہ آزاد کشمیر میں 14837 افراد وائرس میں مبتلا ہوچکے ہیں اور 410 افراد انتقال کرگئے۔اس کے علاوہ گلگت بلتستان میں اب تک کورونا کے مریضوں کی تعداد 5140 اور 103 افراد انتقال کرچکے ہیں۔پورٹل کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں کورونا کے مریضوں کی مجموعی تعداد 67491 ہے اور اب تک 619 مریض انتقال کر چکے ہیں۔

SMART MASK

ضرورت ایجاد کی ماں ہے ،امریکا نے ٹیکنالوجی سے لیس سپر ماسک نامی اسمارٹ ماسک متعارف کرادیا۔دلچسپ ماسک کے بارے میں جانتے ہیں اس رپورٹ میں ٹیکنالوجی سے لیس اس سپر ماسک کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں تین پنکھے اور ایسے ڈیجیٹل فلٹرز نصب ہیں جو ہوا کو سانس کے لیے صاف بنانے میں مددگار بناتے ہیں۔سپر ماسک میں جہاں پنکھے نصب ہیں، وہیں اس میں بلیوٹوتھ، ہیڈفون اور مائیکرو فون کی سہولت بھی ہے اور فیس ماسک کے مذکورہ تمام فیچرز بیٹری کی مدد سے کام کرتے ہیں جو 7 گھنٹے تک کام کرتی ہے۔سپر ماسک کی رقم 300 امریکی ڈالر یعنی پاکستانی 50 ہزار روپے کے قریب تک رکھی گئی ہے۔امریکا نے ٹیکنالوجی سے لیس سپر ماسک نامی اسمارٹ ماسک متعارف کرادیا ماسک میں بلیوٹوتھ، ہیڈفون،مائیکرو فون کی سہولت بھی موجود ہے

Exercise health

ورزش اور صحت بخش خوراک بعد کی زندگی یعنی بلوغت کے بعد بڑے دماغ اور فکر و پریشانی و بے چینی کی سطح کو کم کرنے کا سبب بنتی ہے۔ کیا واقعی یہ ایک حقیقت ہے ؟امریکا کی یونیورسٹی آف کیلی فورنیا ریور سائیڈ میں اس اسٹڈی کے سربراہ اور یو سی آرفزیولوجی ڈاکٹرل اسٹوڈنٹ کے مارسیل کینڈی کے مطابق اس تحقیقی سے یہ پتہ چلا کہ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر کے پاس جاکر اپنے وزن کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے ہیں تو ڈاکٹر فوری طور پر آپ کو ورزش اور کم کھانے کا مشورہ دیتا ہے۔اسی طرح محققین نے یہ بھی اندازہ لگایا کہ بچپن میں ورزش کرنے سے بعد کی زندگی میں بے چینی پر مبنی رویہ میں کمی آتی ہے، اس کے ساتھ ہی اس سے عمومی طور پر بالغ لوگوں کے پٹھے مضبوط اور دماغ کا سائز بڑھ جاتا ہے۔ جب چوہوں کو مغربی انداز کے کھانے پینے کی اشیا جو کہ زیادہ چکنائی اور چینی پر مبنی تھیں دی گئیں تو وہ نہ صرف موٹے ہوگئے بلکہ اس بلوغت کو پہنچے کہ وہ غیر صحت بخش خوراک کو ترجیح دینے لگے۔ لہٰذا یہ ثابت ہوا کہ ورزش اور صحت بخش خوراک کا بعد کی زندگی میں دماغی اور جسمانی صحت میں اہم کردار ہے۔