وفاقی حکومت نے سردیوں

وفاقی حکومت نے سردیوں میں بجلی کے زیادہ استعمال پر صارفین کومراعاتی پیکیج دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے ملک بھر میں ایڈوانس میٹرنگ انفرا اسٹرکچر کا منصوبہ بھی شروع کیا جائے گا۔حکومت نے نئی آئل ریفائننگ پالیسی بھی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کا حتمی فیصلہ کابینہ کی توانائی کمیٹی اور وفاقی کابینہ کی منظوری سے ہوگا۔اس کیلیے کابینہ کی توانائی کمیٹی کا اجلاس پیر کو طلب کرلیا گیا ہے۔اجلاس میں سات نکاتی ایجنڈے پر غور ہوگا۔ اجلاس میں آؤٹ آف میرٹ چلنے والے پاور پلانٹس کے بارے میں ماہانہ رپورٹ بھی پیش کی جائے گی۔اجلاس میں کابینہ کی توانائی کمیٹی کے ٹی او آر اور کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کے چارٹر کے موازنہ پر مبنی سمری کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ سردیوں میں بجلی زیادہ استعمال کرنے پر رعایت دینے کا فیصلہ کابینہ کی توانائی کمیٹی کا اجلاس پیر کو طلب

اسٹیٹ بینک آف پاکستان

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا کہنا ہے کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں نے مسلسل 15 ویں مہینے اگست میں 2 ارب روپے سے زائد کی رقوم وطن بھیجی ہیں۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعلامیئے کے مطابق اگست کی ترسیلات جولائی کے مقابلے میں 4 اعشاریہ 92 لاکھ ڈالرز کم رہیں۔اعلامیئے میں اسٹیٹ بینک نے بتایا ہے کہ سعودی عرب سے 69 کروڑ کی ترسیلات موصول ہوئی ہیں، عرب امارات سے 51 کروڑ ڈالر کی ترسیلات پاکستان بھیجی گئیں۔اسٹیٹ بینک کا اعلامیئے میں مزید کہنا ہے کہ اگست میں برطانیہ سے 35 کروڑ ڈالرزکی ترسیلات بھیجی گئیں، دیگر خلیجی ممالک سے 28 کروڑ ڈالرز کی ترسیلات بھیجی گئی ہیں۔ اگست میں 2 ارب سے زائد کی ترسیلاتِ زر آئیں: اسٹیٹ بینک دیگر خلیجی ممالک سے 28 کروڑ ڈالرز کی ترسیلات بھیجی گئی ہیں

(نیپرا) قوانین کی خلاف ورزی

 (نیپرا) قوانین کی خلاف ورزی کا نیا اسکینڈل سامنے آگیا۔8 ماہ کے دوران ملتان، سکھر، کراچی،  لاہور، حیدر آباد، گجرانوالہ اور فیصل آباد کے لاکھوں صارفین کو بجلی کے بل طے شدہ 31 روز کے بجائے 37 روز کی بنیاد پر کئی بار بھیجے گئے۔

ان 8 ماہ کے دوران 37 روز کے دوران استعمال کی گئی بجلی کے سب سے زیادہ بل ملتان کی پاور کمپنی میپکو نے بھیجے۔31روز میں 300 یونٹ کا بل 3200 روپے بنتا ہے، لہٰذا  اس طرح صرف ایک روز کے اضافے سے بلوں میں 600 روپے کا اضافہ ہوجا تا ہے۔ (نیپرا) قوانین کی خلاف ورزی کا نیا اسکینڈل سامنے آگیا عوام کو بجلی کے بل طے شدہ 31 کے بجائے 37 روز تک کی بنیاد پر بھیجے جانے کا انکشاف

گورنمنٹ اسٹیٹ بینک

گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر کا کہنا ہے کہ کورونا کے دوران پاکستانی روپے کی قدر 8 سے 9 فیصد کم ہوئی۔روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر کا کہنا تھا کہ اب پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ہے، روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں ایک لاکھ 30 ہزار اکاؤنٹ کھولے گئے۔رضا باقر نے کہا کہ سب سے زیادہ ترسیلات زر سعودی عرب سے پاکستانی اپنے ملک بھیج رہے ہیں جس سے ملکی معیشت پر مثبت اثرات پڑ رہے ہیں۔

معلومات کی اطلاع

ادارہ شماریات پاکستان نے مہنگائی کی ہفتہ وار رپورٹ جاری کردی ہے جس کے مطابق 29 اپریل 2021ء کواختتام پذیر ہونے والے ہفتہ کے دوران مہنگائی کی شرح16.90 فیصدجبکہ گزشتہ ہفتہ کے مقابلہ میں یہ شرح 0.05فیصدبڑھ گئی ہے، 30 اشیاء کی قیمتوں میں استحکام رہا ، 12 اشیاءکی قیمتوں میں اضافہ ، 9 میں کمی ہوئی۔ملک کے 17بڑے شہروں سے 51 اشیاء کی قیمتوں کا تقابلی جائزہ لیاگیا جس میں 12 اشیاءکی قیمتوں میں اضافہ اور 9اشیاء کی قیمتوں میں کمی جبکہ 30 اشیاء کی قیمتوں میں استحکام رہا ہے ۔
اس ہفتہ کے دوران ملک میں کیلا،آلو ،آٹا،صابن،چینی، مٹن،دال چنا،بیف پلیٹ، چاول باسمتی(ٹوٹا)، دال مسور، گڑکی قیمتوں میں اضافہ جبکہ ٹماٹر،پیاز،دال مونگ،دال ماش،چکن،لہسن،خوردنی تیل ، انڈہ(فارمی) ،ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں میں کمی اورچاول اری6/9 ،بیف ،خشک دودھ،تازہ دودھ،دہی، ھائی سپیڈ ڈیزل،پیٹرول، ٹیلیفون کالز،واشنگ سوپ، ویجیٹیبل گھی ،کوکنگ آئل،گھی (کھلا)،چائےکا کپ ، دال پلیٹ،آگ جلانے والی لکڑی،الیکٹرک چارجز،چاول باسمتی(ٹوٹا)، ماچس،جارجٹ، موٹالٹھا، ڈبل روٹی، چائے،انرجی سیور، سگریٹ، لان(کپڑا)،نمک، سرخ مرچ(پسی ہوئی)، گندم، مٹی کا تیل ،سینڈل،چپل،گیس چارجز کی قیمتوں میں استحکام رہا ہے۔

کاروبار

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق گذشتہ مالی سال کا حقیقی کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 4.44ارب ڈالر رہا، جو جی ڈی پی کے 1.7 فیصد کے مساوی ہےگزشتہ ہفتے اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کی گئی ادائیگیوں کے توازن کی سمری کے مطابق مالی سال 2019-20 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 4.44 ارب ڈالر رہا جو جی ڈی پی کے 1.7 فیصد کے مساوی ہے۔قبل ازیں وفاقی حکومت اور اسٹیٹ بینک کے جاری کردہ بیانات کے مطابق گزشتہ مالی سال میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 13.4 ارب ڈالر سے کم ہوکر 3ارب ڈالر سے بھی نیچے چلاگیا ہے۔ آئی ایم ایف نے بھی رواں ماہ جاری کردہ رپورٹ میں حکومت کے توسط سے پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تقریباً 3 ارب ڈالر ہی بیان کیا ہے۔توازن ادائیگی کی سمری سے ظاہر ہوتا ہے کہ قبل ازیں اسٹیٹ بینک نے مالی سال 2019-20 کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ غلط رپورٹ کیا تھا۔ اس کی وجہ درآمدات، اور سرکاری قرضوں کے اعدادوشمار درست رپورٹ نہ ہونا تھا۔ابتدائی اور نظرثانی شدہ اعدادوشمار میں 50فیصد کا فرق غیرمعمولی ہے جوحکومت کے ڈیٹا رپورٹنگ مکینزم پر نظرثانی اور ریاست کے مختلف اداروں کے درمیان بہتر رابطہ کاری کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔
ایک اعلیٰ وفاقی افسر کے مطابق یہ فرق ڈیٹا کو یکجا کرنے کے مسائل کی وجہ سے نہیں بلکہ کچھ فارن ٹرانزیکشن کی غلط رپورٹنگ کے باعث آیا ہے۔ اسٹیٹ بینک کی جانب سے اس معاملے پر اسٹوری فائل کرنے تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔