چائنیز سرمایہ کار گروپ سن واک گروپ پاکستان میں اگلے 8سے 10 سال میں تقریباً 2ارب امریکی ڈالرز کی سرمایہ کاری کرے گا۔

وزیر آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن سید امین الحق سے سی ای اوچائنیز کمپنی سن واک کی سربراہی میں وفد نے ملاقات کی اس موقع پر وزارت کے افسران بھی موجود تھے۔ وفد نے وفاقی وزیر آئی ٹی کو کمپنی کی ورکنگ اور پاکستان میں آپٹیکل فائبر نیٹ ورک بچھانے کے حوالے سے سرمایہ کاری پلان بارے میں بریفنگ دی۔

سی ای او سن واک ٹونی لین نے آگاہ کیا کہ سن واک گروپ تقریباً دو بلین امریکی ڈالرز کی سرمایہ کاری کرنے کیلیے تیار ہے،وفد سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر آئی ٹی نے سن واک گروپ کے پاکستان میں مستقبل کے سرمایہ کاری پلان کی تعریف کی اور کمپنی کو مکمل سپورٹ کی یقین دہانی بھی کرائی۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان میں فور جی اور فائیو جی گروتھ اور ڈیجیٹلائزیشن کیلیے فائبر نیٹ ورک بہت ضروری ہے۔

عالمی سطح پر گندم کی قیمتوں میں 15 ڈالر فی میٹرک ٹن کمی ہونے سے پاکستان کو 40 لاکھ ٹن گندم کی درآمد

عالمی سطح پر گندم کی قیمتوں میں 15 ڈالر فی میٹرک ٹن کمی ہونے سے پاکستان کو 40 لاکھ ٹن گندم کی درآمد میں 9 ارب روپے سے زیادہ کی بچت متوقع ہے۔

بڑی مقدار میں گندم کی درآمد سے ملک میں گندم اور آٹے کی قلت کا خدشہ مکمل ختم ہوگیا ہے جس سے ذخیرہ اندوزوں کو بھاری مالی نقصان ہوگا، تاہم قیمتوں میں اُتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری رہنے کا خدشہ موجود ہے۔

وفاقی وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی نے گزشتہ روز 40 لاکھ ٹن گندم امپورٹ کرنے کیلیے سرکلر جاری کردیا ہے، 20 لاکھ ٹن گندم ٹریڈنگ کارپوریشن جبکہ 10 لاکھ ٹن وفاقی محکمہ پاسکو امپورٹ کرے گا، نجی شعبہ کو بھی 10 لاکھ ٹن گندم امپورٹ کی اجازت دے دی گئی ہے۔

خیبر پختونخواہ حکومت نے پاسکو سے 10 لاکھ ٹن گندم فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے جس میں سے 5 لاکھ ٹن امپورٹڈ اور 5 لاکھ ٹن دیسی گندم مہیا کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

پنجاب میں فلورملز کے پاس اس مرتبہ وافر مقدار میں گندم موجود ہونے کے سبب نجی شعبہ کی جانب سے امپورٹ کی جانے والی 10 لاکھ ٹن گندم کی پنجاب میں کھپت نہیں ہوگی ، یہ گندم کراچی کی ملیں  خریدیں گی۔

علاوہ ازیں پنجاب حکومت نے سہولت بازاروں میں سستا آٹا  فروخت کرنے والی فلورملز کو 1530 روپے فی40 کلوگرام بمعہ  باردانہ گندم فروخت کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

کاروبار

ادارہ شماریات نے ہفتہ وار مہنگائی کے اعدادوشمار جاری کردیئے، اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ ہفتے مہنگائی میں 0.63 فیصد کی کمی آئی جبکہ مجموعی شرح 16.34 فیصد کی سطح پر آگئی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری ہونے والے اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ ہفتے مہنگائی میں 0.63 فیصد کی کمی آئی جبکہ مجموعی شرح 16.34 فیصد کی سطح پر آگئی ہے۔ جاری کردہ رپورٹ میں ایک ہفتے میں 12 اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 10 اشیاء کی قیمتوں میں کمی اور 29 اشیاء کی قیمتوں میں استحکام رہا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ ایک ہفتے کے دوران ایل پی کی کا گھریلو سیلنڈر 42 روپے مہنگا ہوا ہے جبکہ گزشتہ ہفتے کے دوران بیف، گڑ،دالیں،تازہ دودھ اور دہی کی قیمتیں بڑھ گئیں ہیں۔رپورٹ کے مطابق ایک ہفتے میں مٹن کی فی کلو قیمت میں 15 روپے کا اضافہ ہوا جبکہ گزشتہ ہفتے کے دوران بیف کی فی کلو قیمت میں 8 روپے کا اضافہ ہوا تھا۔جاری کردہ رپورٹ میں ایک ہفتے کے دوران مرغی کا فی کلو گوشت 47 روپے سستا ہو گیا ہے جبکہ ایک ہفتے میں مرغی فی کلو 325 روپے سے کم ہو کر 278 روپے ہوگئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے میں کیلے،پیاز،دال مصور اور چینی کی قیمتوں میں معمولی کمی ریکارڈ ہوئی ہے جبکہ ایک ہفتے کے دوران چائے کی پتی اور چاول سمیت 29 اشیاء کی قیمتوں میں استحکام رہا ہے۔

ڈالر کی قیمت میں ریکارڈ اضافہ

انٹر بینک میں ڈالر کی قیمت میں کاروباری ہفتے کے دوسرے روز اضافہ ریکارڈ, ڈالر کی قدر میں 67 پیسے کا اضافہ ہوا
انٹر بینک میں ڈالر کی قیمت میں کاروباری ہفتے کے دوسرے روز اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق انٹربینک میں ڈالر کی قدر میں 67 پیسے کا اضافہ ہوا ہے۔
فاریکس ڈیلرز کے مطابق انٹربینک میں ڈالر 153.70 سے بڑھ کر 154.37 روپے پر بند ہوا ہے۔

الیکٹرک بل کاروبار

وفاقی حکومت نے پاور سیکٹر کی سبسڈی میں کمی کیلیے بجلی بلوں کے نئے ٹیرف سلیب تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے جب کہ امکان ہے کہ فیصلے کا اطلاق یکم جون 2021ء سے ہوگا۔حکومت نے تاحال اس فیصلے کے اطلاق کیلیے وقت کا تعین نہیں کیا،وزیر خزانہ کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اس کا تعین خود کریں،فیصلے کی روشنی میں پہلے مرحلے میں 80 لاکھ صارفین سبسڈی سے محروم ہو جائیں گے۔
فی الوقت 2 کروڑ 20 لاکھ صارفین سبسڈی حاصل کر رہے ہیں،نئے ٹیرف کے بعد سبسڈی پانے والے صارفین کی تعداد ایک کروڑ 39 لاکھ رہ جائے گی،نئے ٹیرف سلیب کیلئے وفاقی حکومت تقسیم کار کمپنیوں کی طرف نیپرا کو درخواست کرے گی۔
نئے ٹیرف میں مسلسل چھ ماہ 200 یونٹ ماہانہ استعمال کرنے والا صارف سسڈی کیلئے ’’محفوظ‘‘ ہو گا،300 سے 700 یونٹ کو مزید چار سلیب میں تقسیم کیا جائے گا، دریں اثنا وفاقی کابینہ نے گزشتہ روز آئی پی پیز کو ادائیگی کیلیے پہلی قسط کی منظوری دیدی ہے۔

گورنمنٹ اسٹیٹ بینک

گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر کا کہنا ہے کہ کورونا کے دوران پاکستانی روپے کی قدر 8 سے 9 فیصد کم ہوئی۔روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر کا کہنا تھا کہ اب پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ہے، روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں ایک لاکھ 30 ہزار اکاؤنٹ کھولے گئے۔رضا باقر نے کہا کہ سب سے زیادہ ترسیلات زر سعودی عرب سے پاکستانی اپنے ملک بھیج رہے ہیں جس سے ملکی معیشت پر مثبت اثرات پڑ رہے ہیں۔