Profit storage

ملک میں زرمبادلہ کے ذخائر 4 سال کی بلند ترین سطح پر آگئے ہیں۔ زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر کی مالیت 23 ارب 22 کروڑ ڈالر کی سطح پر آگئی۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق 2.5 ارب ڈالر کے یورو بانڈذ کی نیلامی کے بعد زخائر میں نمایاں اضافہ ہوا۔ زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر 16 ارب 10 کروڑ 64 لاکھ ڈالر کی سطح پر آگئے۔ کمرشل بینکوں کے پاس 7 ارب 11 کروڑ 39 لاکھ ڈالر موجود ہیں۔
زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر کی مالیت 23 ارب 22 کروڑ ڈالر کی سطح پر آگئی۔ 9 اپریل کو ختم ہونے والے ہفتہ کے دوران سرکاری ذخائر میں 2 ارب 57 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ سرکاری ذخائر جولائی 2017 کے بعد بلند ترین سطح پر آگئے ہیں۔

State bank ramdan zakat katoti

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی ہدایت پر ملک بھر کے تمام بینک یکم رمضان المبارک کو عوامی لین دین کے لیے بند ہیں ۔ ہر سال رمضان المبارک کے پہلے روز تمام بینکس سیؤنگ اکاؤنٹس کھاتے داروں کی نصاب کے مطابق زکوٰۃ کی کٹوتی کرتے ہیں۔ رواں سال وفاقی حکومت نے اسلامی سال 1441-42 ہجری کیلئے زکوٰة کا نصاب 80 ہزار 933 روپے مقرر کیا ہے۔بینک دولت پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق یکم رمضان 1442 ہجری بروز بدھ بتاریخ 14 اپریل 2021 کو تمام بینک تعطیل پر ہیں۔اسٹیٹ بینک کی جانب سے تمام بینکس کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ یکم رمضان المبارک کو سیؤنگ اکاؤنٹس سے نصاب کے مطابق زکوٰۃ کی کٹوتی کریں۔مالیاتی اداروں، بینکوں اور مائیکروفنانس بینکوں کے ملازمین یکم رمضان کو معمول کے مطابق اپنی دفتری ذمہ داریاں انجام دیتے ہیں جبکہ عوام سے لین دین بلکل بند رہتی ہے۔ ہر سال رمضان المبارک کے پہلے روز تمام بینکس سیؤنگ اکاؤنٹس کھاتے داروں کی نصاب کے مطابق زکوٰۃ کی کٹوتی کرتے ہیں۔ رواں سال وفاقی حکومت نے اسلامی سال 1441-42 ہجری کیلئے زکوٰة کا نصاب 80 ہزار 933 روپے مقرر کیا ہے۔ یعنی جس کے سیؤنگ اکاؤنٹ میں اتنی رقم موجود ہوگی اُس کے کھاتے سے 2 ہزار 24 روپے کٹوتی زکوٰۃ کی مد میں کی جائے گی جبکہ اس سے زیادہ کی صورت میں مجموعی رقم پر ڈھائی فیصد کٹوتی کی جائے گی۔حکومت کے تخفیف غربت اور سماجی تحفظ ڈویژن کی جانب سے گیارہ اپریل کو اسٹیٹ بینک کو مقررہ نصاب کا نوٹیفکیشن بھیجا گیا جس کے بعد اسٹیٹ بینک دیگر بینکوں کو زکوٰۃ کے نصاب اور کٹوتی کے حوالے سے اہم ہدایات جاری کیں تھیں۔ یاد رہے کہ پے منٹ اکاؤنٹ، کمپنی اکاؤنٹ یا ڈیکلیریشن اکاؤنٹ سے زکوٰۃ کی کٹوتی نہیں ہوگی

COTTON FACTORY

فیڈرل کمیٹی آن ایگری کلچر کی جا نب سے کپاس کی مجموعی پیداوار کا ہدف حاصل نہ ہونے کے باوجود سال2020-21 کے لیے پیداواری ہدف ایک بار پھرایک کروڑ 5 لاکھ گانٹھ مقرر کردیا ہے۔ کاٹن جننگ فورم کے چیئرمین احسان الحق نے موجودہ حالات میں (ایف سی اے) کےمقررکردہ پیداواری ہدف کو ناممکن قراردے دیا ہے۔ اس ہدف سے ٹیکسٹائل ملز کو اپنی سالانہ حکمت عملی ترتیب دینے میں مشکلات کا سامنا ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ 8سال کے دوران پاکستان میں کپاس کی مجموعی ملکی پیداوار ہمیشہ ایک کروڑ گانٹھ سے کم رہی ہے، جب کہ رواں سال کپاس کی مجموعی قومی پیداوا ر ملکی تاریخ کی کم ترین سطح 56 لاکھ 50 ہزار گانٹھ تک محدود رہی۔انہوں نے بتایا کہ ایف سی اے زمینی حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے ہر سال کپاس کا مجموعی پیداواری ہدف ایک کروڑ گانٹھوں سے زائد مقرر کر رہی ہے اور اس ہدف کو کبھی حاصل نہیں کیا گیا۔ اس غیر حقیقت پسندانہ پیداوری ہدف کی وجہ سے ٹیکسٹائل ملز اور برآمد کنندگان کو اندرون ملک روئی کی دست یابی اورغلط اندازوں کے خدشات کے پیش نظرعین موقع پر مہنگے داموں روئی درآمد کرنا پڑے گی۔

RAZA BAQAR BUSINESS

گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے کہا ہے کہ جس وقت ہم عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پاس گئے، اُس وقت معاشی حالت خراب تھی۔’نیا پاکستان‘ میں گفتگو کرتے ہوئے رضا باقر کا کہنا تھاکہ کورونا کی پہلی اوردوسری لہرمیں حکومت اوراسٹیٹ بینک نے اقدامات کیے۔رضا باقر کا کہنا تھا جس وقت ہم آئی ایم ایف کے پاس گئے اس وقت معاشی حالت خراب تھی، کوئی بھی ملک خوشی سے آئی ایم ایف کے پاس نہیں جاتا، جوپالیسیاں پاکستان کے حق میں ہونگی ان ہی پرعمل کریں گے۔
ان کا کہنا تھاکہ لوگوں کوفکرتھی کہ پالیسی ریٹ بڑھ نہ جائے، مانیٹری پالیسی سے معیشت کو سپورٹ ملی، ہمارا فوکس ہے کہ لوگوں کا روزگاربچایا جائے اور اس کو مدنظررکھ کرآئی ایم ایف سے بات کریں گے۔گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا تھاکہ بجلی کے ریٹ بڑھنے سے بھی مہنگائی ہوئی جبکہ عمران خان کی حکومت میں پالیسی ریٹ 13 فیصد پہلی مرتبہ نہیں ہوا، سال 2008 اورسال 2010 میں بھی پالیسی ریٹ 13 فیصد ہوا تھا۔گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ ملکی معیشت درست سمت میں گامزن ہے، مستقبل قریب میں شرحِ سود میں اضافہ نہیں دیکھ رہے، اگر شرحِ سود میں اضافہ کرنا پڑا تو تیزی سے نہیں بلکہ آہستہ آہستہ کریں گے۔