T-20 میچ PAK VS ZAM

پاکستان اور زمبابوے کے درمیان ٹی ٹوئنٹی سیریز کا فیصلہ کن میچ آج کھیلا جائے گا۔سیریز کے پہلے میچ میں پاکستان نے زمبابوے کو 11 رنز سے زیر کیا تھا۔ جبکہ دوسرے میچ میں زمبابوے نے پاکستان کو 19 رن سے شکست دے کر 3 میچوں کی سیریز ایک ایک سے برابر کردی تھی۔ہرارے میں پاکستان اور زمبابوے سیریز کی ٹرافی کا حقدار میزبان ہوگا یا مہمان؟ فیصلہ آج ہوجائے گا۔میچ پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر 2 بجے شروع ہوگا، جسے پاکستان کا پہلا اسپورٹس چینل جیوسوپر براہ راست نشر کرے گا۔دوسری جانب دوسرے ٹی 20 میچ میں زمبابوے کے ہاتھوں سے شکست پر قومی ٹیم کو تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے

جنوبی افریقہ کا کریکٹر

جنوبی افریقا کے نوجوان اسپین بولر بورون فورچین نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ اس حوالے سے بورون فورچین نے اپنے آفیشل انسٹاگرام اکاؤنٹ پر مختلف اسٹوریز شیئر کیں ہیں میڈیا رپورٹس کے مطابق اسلام قبول کرنے کے بعد جنوبی افریقی کھلاڑی بورون فورچین کا نام ’عماد‘ رکھ دیا گیا ہے اور اس بات کی تصدیق کھلاڑی کی اہلیہ نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری میں کی ہے۔اس حوالے سے بورون فورچین نے اپنے آفیشل انسٹاگرام اکاؤنٹ پر مختلف اسٹوریز شیئر کیں جن میں اُن کے ساتھ کرکٹر تبریز شمسی اور اُن کی اہلیہ نے اُنہیں دائرہ اسلام میں داخل ہونے پر مبارکباد پیش کی۔دوسری جانب تبریز شمسی کی اہلیہ نے اپنی انسٹا اسٹوری میں لکھا کہ ’میں آپ دونوں کو دائرہ اسلام میں دیکھ کر بہت خوش ہوئی ہوں۔‘جنوبی افریقا کے نوجوان اسپین بولر بورون فورچین نے اسلام قبول کر لیا ہے جنوبی افریقی کھلاڑی بورون فورچین کا نام ’عماد‘ رکھ دیا گیا

شوبیز فنکار

اس مشکل وقت میں ہم آپ کے ساتھ ہیں،کورونا کی موجودہ صورتحال پر پاکستانی فنکاروں نے بھارت کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کر دیا، فنکاروں کے خیرسگالی کے اس جذبے کو صارفین نے خوب سراہا ۔معروف اداکارعلی ظفر نے کہا کہ بھارت کے لئے نیک خواہشات ہیں، اس مشکل وقت میں ہم بھارتیوں کے ساتھ ہیں، پاکستانی فنکاروں کے اس خیرسگالی کے اس جذبے کو صارفین نے خوب سراہا ہے۔اداکار فیصل قریشی کا کہنا ہے کہ بھارت میں کورونا کی خطرناک صورت حال کا سنا ہے، لیکن اس مشکل وقت میں پاکستان بھارت کے ساتھ کھڑا ہے، ہم سب آپ سب کی صحت یابی کے لئے دعاگو ہیں کیونکہ انسانیت سے بڑا کوئی مذہب نہیں ہے۔احمد علی بٹ نے کہا کہ ہم سب بھارتیوں کی صحت کے لئے دعاگو ہیں، اللہ تعالی ہم سب پر رحم فرمائے اور اس وبائی مرض سے نجات دے۔شہریار منور نے بھی انسانی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ دنیا کو کوویڈ 19 کا سامنا ہے، بھارت میں تو حالات بہت برے ہیں، ہم ان کو بتا دینا چاہتے ہیں کہ اس مشکل وقت میں ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں، بھارتیو! مضبوط رہو، انشاءاللہ یہ برا وقت بھی نکل جائے گا۔کورونا وبا؛ پاکستانی فنکاروں کا بھارت کے لئے نیک خواہشات کا اظہار پاکستانی فنکاروں کے اس خیرسگالی کے اس جذبے کو صارفین نے خوب سراہا

موسم

کراچی میں سورج کا غصہ آج بھی کم نہ ہوا ، 39 ڈگری سینٹی گریڈ کی گرمی 42 ڈگری کی محسوس کی گئی۔
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ گرمی کا سلسلہ آئندہ دو روز برقرار رہے گا ، اتوار اور پیر کو بھی درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔شدید گرمی کی وجہ سے روزہ داروں کو پریشانی کا سامنا ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ بلا ضرورت گھر سے باہر مت نکلیں، سر اور جسم کے دیگر حصوں کو ڈھانپ کر باہر جائیں، مشروبات کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں۔

سعدیہ ارباب نئی کریسی

سعودی عرب کےسعودی وژن کوپانچ سال مکمل ہونےکی خوشی پردوسوریال کانوٹ جاری کردیاگیا۔۔ نوٹ پرشاہ عبدالعزیزکی تصویرچھاپی گئی ہےسعودی عرب کےمرکزی بینک کی جانب سےسعودی عرب کےبانی شاہ عبدالعزیز آل سعودکی تصویر سےمزین نیادوسو ریال کاکرنسی نوٹ جاری کیاگیا۔۔ مرکزی بینک کاکہناہے یہ کرنسی نوٹ سعودی وژن سال دوہزارتیس کےپانچ سال مکمل ہونےکی خوشی میں جاری کیا گیا ہے سعودی وژن 2030 کے تحت سعودی معیشت تیل پرانحصارکم کرنےکےعلاوہ عالمی تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے پر مبنی ہے۔سعودی عرب کےمرکزی بینک کےسعودی وژن کوپانچ سال مکمل
پانچ سال مکمل ہونےکی خوشی میں 200ریال کانوٹ جاری
نوٹ پرشاہ عبدالعزیزکی تصویرچھاپی گئی ہے

پیٹرولیم

وزارت پٹرولیم نے تیل و گیس کی تلاش کیلئے مزید 6 بلاکس کے لائسنس جاری کر دیے ہیں۔ وزیر توانائی نے کہا کہ ایکسپلوریشن سرگرمیوں سے ملکی آئل و گیس کی پیداوار میں اضافہ ہو گا۔ ای اینڈ پی کارروائیوں سے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہو ں گے۔
دستخطوں کی تقریب میں وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر نے بھی شرکتِ کی۔ سیکریٹری پٹرولیم اسد حیاالدین اور ڈائریکٹر جنرل پٹرولیم کنسیشنز عبدالجبار میمن نے حکومت پاکستان جبکہ او جی ڈی سی ایل کے مینجنگ ڈائریکٹر شاہد سلیم ، مینجنگ ڈائریکٹر این سی پی ایل فہیم حیدر اور مینجنگ ڈائریکٹر پی پی ایل معین رضا نے اپنی اپنی کمپنیوں کی طرف سے دستخط کیے۔حکومت پاکستان نے شاران بلاک کے 60% حقوق عارضی بنیادوں پر ماڑی پٹرولیم اور 40% حقوقOGDCL کو مشترکہ منصوبے کے طورپر جنوری 2021 میں دیئے تھے جب کہ قلعہ سیف اللہ کے %60 حقوقOGDCL اور%40 حقوق MPCL کے پاس ہیں۔شاران اور قلعہ سیف اللہ بلاکس بلوچستان کے جلع زوب اور قلعہ سیف اللہ میں واقع ہیں۔وزیر توانائی نے کہا کہ ایکسپلوریشن سرگرمیوں سے ملکی آئل و گیس کی پیداوار میں اضافہ ہو گا۔ ای اینڈ پی کارروائیوں سے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہو ں گے۔ تین سالانہ ایکسپلوریشن سرگرمی کے دوران کمپنیاں 24.68 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گی۔

PESHAWAR CORONA

پشاور کی ضلعی انتظامیہ نے شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس اور پاک فوج کے جوانوں کے ساتھ کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزیوں پرکارروائیاں کر کے 200 شہریوں کو گرفتار کر لیا۔ذرائع کے مطابق پشاور میں ضلعی انتظامیہ نے پولیس اور فوج کے ساتھ مل کر کارروائیاں کرتے ہوئے کورونا ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر پشاور کے یونیورسٹی روڈ پر 16 اور صدر میں 12 دکانیں سیل کر دیں۔ دوسری جانب پولیس نے لاؤڈ اسپیکرز کے ذریعے شہریوں سے کورونا ضابطہ اخلاق پر عمل کرنے کی اپیل کی۔
اسسٹنٹ کمشنر نے بتایا کہ کورونا کی تیسری لہر شدت اختیار کر چکی ہے مگر شہری مسلسل ایس او پیز کی خلاف ورزیاں کر رہے ہیں۔
اسسٹنٹ کمشنرکا کہنا تھا ہماری کوشش ہے کہ شہر کو بند کرنے کی طرف نا جایا جائے۔کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی پر اب تک 200 شہریوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ادھر مردان میں کورونا ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر 3 پلازے جبکہ گلبرگ لاہور میں 5 سیلون سیل کر دیے گئے، کامونکی میں 2 فوڈ پوائنٹس اور تین بڑے ہوٹلوں کو جرمانے کیے گئے

پاکستانی اسٹیل ملز

پاکستان اسٹیل کے ملازمین نے ادارے کا آکیسجن پلانٹ ہنگامی بنیادوں پر ایک ہفتے میں فعال کرنے کی پیشکش کردی جس سے یومیہ 520 ٹن 99.5 فیصد صاف pure آکسیجن پیدا ہوسکے گی اور ملک میں آکسیجن کی قلت کا خدشہ سرے سے ختم ہوجائے گا۔
VO REC
پاکستان اسٹیل کے ملازمین اور ورکرز یونین کے رہنماؤں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ موجودہ حالات میں پاکستان اسٹیل کے آکسیجن پلانٹ کو فعال کرکے پورے پاکستان میں آکسیجن کی طلب پوری کی جاسکتی ہے اور آکسیجن کی بلیک مارکیٹنگ کا خاتمہ بھی ممکن ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اسٹیل کا آکسیجن پلانٹ 2015ء سے بند پڑا ہے جسے 8 سے 12 روز میں فعال کیا جاسکتا ہے، اس پلانٹ کو چلانے کے لیے 40 افراد پر مشتمل عملے کی ضرورت ہوگی تاہم بدقسمتی ہے کہ اس قیمتی اثاثہ کو نظر انداز کیا گیا جس کے فیبریکیٹنگ ڈپارٹمنٹ میں آکسیجن کے سلنڈرز بھی تیار کیے جاسکتے ہیں۔ملازمین کا کہنا ہے کہ پاکستان اسٹیل آکسیجن پلانٹ اگر چل رہا ہوتا تو آج پورے پاکستان میں کورونا کے متاثرین کو ہسپتالوں میں آکسیجن دے سکتے تھے، اس پلانٹ میں 40 افراد کام کرتے تھے جن میں سے کچھ کو نکال دیا گیا ہے، پاکستان اسٹیل کا آکسیجن پلانٹ 2015ء میں چلتی حالت میں بند کیا گیا تھا اور وجہ یہ بتائی گئی کہ جب اسٹیل ہی نہیں بنا رہے تو آکسیجن کی کیا ضرورت۔رہنماؤں نے کہا کہ اب ملک کو ضرورت ہے تو ہنگامی بنیادوں پر 24 گھنٹے کام کر کے ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں آکسیجن کی فراہمی کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔

پاک فوج سنکی حکمت

عالمی وبا کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے اقدامات کرتے ہوئے حکومت سندھ نے پاک فوج کی خدمات کے لیے وزارت داخلہ کو خط لکھ دیا ہے۔سندھ میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں اضافے کے بعد صوبائی حکومت متحرک ہو گئی ہے اور آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت پاک فوج کی خدمات کے لیے حکومت سندھ نے وزارت داخلہ کو خط کے ذریعے درخواست دے دی ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد کے لیے پاک فوج کی خدمات سول انتظامیہ کی مدد کے لیے درکار ہیں۔
حکومت سندھ کا خط میں کہنا ہے فوجیوں کی تعیناتی اور سازو سامان سے متعلق مشاورت کے بعد آگاہ کیا جائے گا۔
دوسری جانب وزیر اطلاعات سندھ ناصر حسین شاہ نے جیو نیوز کے پروگرام نیا پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت تیار ہے، کورونا کی صورتحال بدتر ہوئی تو لاک ڈاؤن کر دیں گے۔

آکسیجن سلنڈر

کورونا کے مریضوں کے لیے پاکستان میں آکسیجن کم پڑنے لگی، صورت حال بھارت کی طرح بگڑ سکتی ہے، آکسیجن فراہم کرنے والی کمپنیوں نے خطرے کی گھنٹی بجادی۔ پاکستان میں آکسیجن بنانے والی کمپنیوں نے خبردار کیا ہےکہ کورونا کی موجودہ لہر کے دوران اگر آکسیجن کی صنعتی شعبےکو فراہمی نہ روکی گئی تو اسپتالوں میں شدید کمی ہو سکتی ہے۔حکام نے یہ خطرہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اگر اسپتالوں کو مسلسل آکسیجن کی فراہمی نہ ہوئی تو بھارت جیسی صورتحال بھی پیدا ہو سکتی ہے۔آکسیجن بنانے والی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ صنعتوں کو آکسیجن ملتی رہی تو صحت کا شعبہ متاثر ہوسکتا ہے ، آکسیجن بنانے والے پلانٹس کو بلا تعطل بجلی کی ضرورت ہے۔ آکسیجن بنانے والی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ وہ عام حالات میں ایک مہینے کا اسٹاک رکھتے ہیں لیکن موجود صورتحال میں انہیں روزانہ کی بنیاد پر اسپتالوں کو آکسیجن فراہم کرنا پڑ رہی ہے۔پاکستان آکسیجن لمیٹڈ کے مطابق ملک میں پانچ کمپنیاں ہیں جو اسپتالوں کو آکسیجن فراہم کرتی ہیں، موجودہ حالات میں وہ اپنی 100 فیصد پیداوار دے رہی ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ کراچی اور حیدرآباد میں کورونا کیسز بڑھے تو آکسیجن بنانے والی کمپنیوں پر دباؤ بڑھ جائے گا۔وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ پاکستان میں اب بھی 80 میٹرک ٹن آکسیجن کی پیداوار کی صلاحیت ریزرو میں ہے، آکسیجن کی درآمد کے آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے۔پمز اسپتال اسلام آباد کے کورونا وارڈز میں مریضوں کی گنجائش ختم ہوگئی ہے، لاہور کے 16 سرکاری اسپتالوں کے آئی سی یوز 86 فیصد بھرگئے ہیں، خیبر پختونخوا میں ڈیڑھ ہفتے میں 8 بڑے اسپتالوں میں آکسیجن کا استعمال 83 فیصد بڑھ گیا ، کوئٹہ کے فاطمہ جناح اسپتال کا آکسیجن پلانٹ غیر فعال ہوگیا۔عوام سے اپیل ہے کہ وہ احتیاط کریں ، ایس او پیز پر عمل کریں ، کیونکہ احتیاط پچھتاوے سے بہتر ہے۔