Entertainment

IQBAL BANO

کلاسیکی موسیقی کی پہچان،ملکہ غزل کا لقب پانے والی ، اقبال بانو کو مداحوں سے بچھڑے 12 برس بیت گئے ، ان کی کھنک دار اور سریلی آواز کا جادو آج بھی سر چڑھ کر بولتا ہے،مزید اس رپورٹ میں لیجنڈری گلوکارہ کے تعارف کیلئےاتنا کہنا کافی ہوگا کہ انہوں نے جو بھی گایا اسے ہمیشہ کے لیے امر کردیا، جن نغموں کو چھوا انہیں جاوداں کردیا۔ ملکہ غزل کی گائی ہوئی غزلیں اورنغمے آج بھی سننے والوں کے کانوں میں رس گھول رہی ہیں۔ دشت تنہائی میں اے جان جہاں لرزاں ہیں تیری آواز کے سائے ترے ہونٹوں کے سراب اقبال بانو کو اپنی شخصیت کی طرح آواز کی پختگی کی وجہ سے انفرادیت حاصل تھی جبکہ موسیقی کے اسرار ورموز سے واقفیت آپ کی گائیکی کا خاصہ تھی۔ انہی خصوصیات کے ساتھ انھوں نے جس کلام کو بھی لے اور سُر کے ساتھ گایا، سامعین کو پھر یہ کلام کسی اور آواز میں نہ بھایا۔تُو لاکھ چلے ری گوری تھم تھم کے پائل میں گیت ہیں چھم چھم کے فیض احمد فیض کی نظموں اور غزلوں پرجنرل ضیاکے دور میں غیر اعلانیہ پابندی کے دوران وہ اقبال بانو ہی تھیں جنھوں نےلاہورکےالحمرا آڈیٹوریم میں فیض صاحب کی سالگرہ والے دن ان کی مشہور زمانہ نظم ’ہم بھی دیکھیں گے‘ گائی، جو وہاں موجود ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے ملکہ غزل کے سُرکے سُر ملایا۔فیض احمد فیض نےیہ غزل 1979ء میں لکھی تھی۔کلاسیکی موسیقی کی پہچان، اقبال بانو کی آج بارہویں برسی منائی جارہی ہے ملکہ غزل کا لقب پانے والی اقبال بانوں نے گائیکی غزل کو بام عروج پر پہنچایا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *