Entertainment

Munir Niazi Birthday

جذبوں کا ترجمان۔ احتجاج کا شاعر۔لفظوں کا سکندر۔منیر نیازی نے شاعری میں نیا اسلوب متعارف کرایا جس کی تقلید ناممکن ہے۔ان کی شاعری ہجر و وصال کی وارداتوں کو لفظوں میں پرو کر بیان کرتی ہے۔ اردو اور پنجابی شاعری پر انمٹ نقوش چھوڑنے والے منیر نیازی کی آج ترانویں سالگرہ منائی جارہی ہے دیر کردیتا ہوں،،شعرعشق کی داستان سنانے میں ماہر۔وصل و ہجر کےجذبوں کا ترجمان۔منیر نیازی نو اپریل انیس سو اٹھائیس کو ہوشیار پور کے قصبہ خان پور میں پیدا ہوئے۔۔غزل میں ایسے ماہر کے گفتگو شعر میں کب ڈھل جاتی تھی پتہ ہی نہیں چلتا تھا۔اسپیس منیر نیازی شاعر احتجاج بھی کہلائے۔ یوں کہا جائے کہ احتجاج کو لفظوں میں پرو کر شعر بنادینے میں کوئی منیر کا ثانی نہیں ہے۔۔منیر نیازی کی اُردو شاعری کے 13 شاہکار مجموعے اس بے وفا کا شہر، جنگل میں دھنک، سفید دن کی ہوا، سیاہ شب کا سمندر، ماہ منیر، چھ رنگین دروازے، محبت اب نہیں ہو گی اور ایک تسلسل کے نام سے چھپے جبکہ پنجابی کے 3 مجموعے چار چپ چیزاں‘ رستہ دسن والے تارے اور سفردی رات کے نام شائع ہوئے۔ہرایک کا اپنا ہی اسلوب تھا،،،اور یہ تفریق کرنا نا ممکن ہے کہ کون سا مجموعہ کس سے بہتر ہے،آخری عمر میں ان کو سانس کی بیماری ہو گئی تھی اور اسی بیماری میں 26 دسمبر 2006ء کو وہ اس دنیا کو چھوڑ گئے جذبوں کا ترجمان،احتجاج کا شاعر منیرنیازی نے شاعری میں نیا اسلوب متعارف کرایا منیر نیای کی آج 93ویں سالگرہ منائی جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *