health

HEALTH

ماہرین صحت اور مقامی فارماسیوٹیکل کمپنی کے عہدیداروں کا کہنا ہےکہ ایٹمی طاقت اور اسلامی دنیا کا اہم ترین ملک ہونے کے باوجود پاکستان میں صحت کے شعبے میں ہونے والی ریسرچ نہ ہونے کے برابر ہے۔ پاکستانی اداروں کو مقامی طور پر ہونے والی بیماریوں کے علاج کے لئے بھی دوسرے ممالک میں ہونے والی تحقیق پر بھروسہ کرنا پڑتا ہے۔نوجوان تحقیق کاروں اور میڈیکل کے طلبا کو ریسرچ کرنے کے لیے ریسرچ فورم قائم کر رہے ہیں جس کے تحت ڈیڑھ سال کے لیے محققین کو انفرادی طور دو لاکھ روپے تک فراہم کیے جائیں گے تاکہ مقامی طور پر ریسرچ کلچر کو فروغ دیا جائے۔ماہرین صحت اور مقامی فارماسیوٹیکل کمپنی کے عہدے داروں نے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مقامی فارماسوٹیکل کمپنی اور پاکستان جرنل آف میڈیکل سائنسز کے تحت قائم ہونے والے “فارم ایوو ریسرچ فورم” پاکستان کی تمام بڑی یونیورسٹیوں کے پروفیسرز، ماہرین صحت اور تحقیق کاروں پر مشتمل ہوگا جو کہ نوجوان ریسرچرز کو صحت کے شعبے میں تحقیق کے لیے مالی معاونت اور مدد فراہم کرے گا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان جرنل آف میڈیکل سائنس کے ایڈیٹر شوکت جاوید کا کہنا تھا کہ پاکستان میں میں طبی تحقیق کرنے والےمحققین کی شدید کمی ہے۔ دوسری جانب پاکستان میں ہونے والی تحقیق کا معیار بھی کافی پست ہے۔ ان حالات میں فارم ایوو ریسرچ فورم کا قیام عمل میں لایا گیا ہے تاکہ صحت کے شعبے میں نوجوان تحقیق کاروں کی حوصلہ افزائی کی جائے اور انہیں تحقیق کرنے کے لئے مطلوبہ فنڈز اور اور ماحول فراہم کیا جائے۔پاکستان بھر سے ماہرین صحت بشمول ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کی پروفیسر جہاں آرا عین الدین، قومی ادارہ برائے امراض قلب سے وابستہ پروفیسر طاہر صغیر، آغا خان یونیورسٹی کے سابق پروفیسر انور علی صدیقی، خیبر پختونخوا سے پروفیسر اختر شیریں، پروفیسر طیبہ وسیم سمیت دیگر ماہرین پر مشتمل فورم بنایا ہے جو کہ نوجوان تحقیق کاروں اور ریسرچرز ز کو مالی اور تکنیکی معاونت فراہم کرے گا۔فورم کے لیے مالی معاونت فراہم کرنے پر فارم ایوو لمیٹڈ کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جو ہمیشہ صحت کے شعبے میں بہتری کے لئے پیش پیش رہتی ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فارم ایوو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید جمشید احمد کا کہنا تھا کہ ان کا ادارہ نئی تحقیق اور علاج کے نئے اور جدید طریقوں کے حصول لیے گزشتہ بیس سالوں سے جدوجہد کر رہا ہے، ان کا ادارہ ملک میں تحقیق کے فروغ کے لیے نہ صرف مالی معاونت فراہم کرے گا بلکہ ان کی کوشش ہوگی کہ ملک کی ہر میڈیکل یونیورسٹی اور کالج میں ریسرچ سینٹر قائم کیے جائیں، تقریب سے پروفیسر جہاں آرا، پروفیسر طاہر صغیر، پروفیسر انور صدیقی، ڈاکٹر مسعود جاوید اور ہارون قاسم سمیت ملک بھر سے ماہرین صحت نے خطاب کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *