business, Pakistan

IMF

آئی ایم ایف بورڈ نے 6 ارب ڈالر کے قرضہ پروگرام کے تحت پاکستانی معیشت کے چار زیرالتوا جائزوں اور تقریباً 50کروڑ ڈالر کی قسط جاری کرنے کی منظوری دیدی ہے۔آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی کیلئے وزیر اعظم عمران خان نے موجودہ غیر یقینی سیاسی صورتحال کے باوجود کچھ سخت سیاسی فیصلے کیے ہیں، پیشگی شرائط کے طور پر ان اقدامات میںمیں بجلی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ، 140 ارب روپے کے ٹیکس لگانے اور اسٹیٹ بینک کو بے مثال خودمختاری دینے پر اتفاق کرنا بھی شامل تھا۔ایک اعلیٰ سرکاری اہلکار نے ایکسپریس ٹریبیون کو بتایا کہ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے سٹاف کی سطح کے معاہدے کی توثیق کی، جو حکومت پاکستان اور آئی ایم ایف کی ٹیم کے مابین گذشتہ ماہ طے پایا تھا۔ بورڈ کی منظوری سے 50کروڑ ڈالر قرض کی تیسری قسط جاری کرنے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔ کل 6 ارب ڈالر میں سے آئی ایم ایف پہلے ہی دو قسطوں میں 1.45 ارب ڈالر دے چکا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف کے نوبحال شدہ پروگرام کو ٹریک پر رکھنا بہت مشکل ہوگا، خاص طور پر 700 ارب روپے سے زیادہ کے بھاری ٹیکس لگانے اور آئندہ بجٹ میں اخراجات میں کٹوتی مشکل اہداف ہیں۔پاکستان کی معیشت کورونا کے اثرات سے بتدریج بحال ہونا شروع ہوئی تھی تاہم اب مہلک وباء کی تیسری لہر سے دوبارہ متاثر ہورہی ہے۔ مرکزی بینک نے گذشتہ ہفتے نظر ثانی کرتے ہوئے مالی سال کیلوے3 فیصد تک شرح نمو کی پیش گوئی کی تھی، اس پروگرام کی بحالی سے بیرونی قرضوں کی پائپ لائنیں پاکستان کیلیے کھلیں رہیں گی۔گزشتہ سال اپریل میں، آئی ایم ایف نے دوسرے جائزہ کی منظوری کیلیے بورڈ کا اجلاس ملتوی کردیا تھا کیونکہ حکومت نے منی بجٹ لانے اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا وعدہ پورا نہیں کیا تھا جس کے نتیجے میں یہ پروگرام معطل ہوگیاتھا۔اس سال فروری میں، دونوں فریقوں نے پروگرام کے زیر التوا دوسرے ، تیسرے، چوتھے اور پانچویں جائزوں کو جمع کرنے پر اتفاق کیا۔ آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی کیلیے پی ٹی آئی کی حکومت 140 ارب روپے کے ٹیکس لگانے پر راضی ہوگئی ہے۔140 ارب روپے کے انکم ٹیکس چھوٹ کی واپسی آئی ایم ایف کی پیشگی شرط تھی۔ اس کے علاوہ حکومت نے فروری میں بجلی کی قیمتوں میں 16 فیصد اضافہ کیا تھا اور چھ ماہ میں (اپریل تا اکتوبر) میں مزید 36 فیصد اضافہ کرنے کا وعدہ کیا تھا۔وفاقی کابینہ نے جمعہ کو ایک آرڈیننس کے نفاذ کی منظوری دی تھی جس کا مقصد صارفین سے 884 ارب روپے وصول کرنے کے لئے اکتوبر سے اب تک بجلی کے نرخوں میں کم از کم 5.65 روپے فی یونٹ اضافے کیلئے قانونی راہ تیار کرنا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *