Pakistan

KESC

کے ای ایس سی کی نجکاری کی تفصیلات پبلک کرنے سے متعلق درخواست پر پاکستان انفارمیشن کمیشن نے عبوری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے وزرات نجکاری کو باقاعدہ تحقیقات کا حکم دے دیا۔طارق منصور ایڈوکیٹ کی درخواست پر پاکستان انفارمیشن کمیشن اسلام آباد میں سماعت ہوئی۔ پاکستان انفارمیشن کمیشن نے کارروائی کا عبوری حکم نامہ جاری کردیا۔ پی آئی سی نے نجکاری دستاویزات غائب ہونے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے پی آئی سی نے سیکریٹری وزرات نجکاری سے وضاحت طلب کرلی۔ پی آئی سی نے وزرات نجکاری کو باقاعدہ تحقیقات کا حکم دے دیا۔پی آئی سی نے عبوری حکم نامے میں کہا ہے کہ بتایا جائے کے ای ایس سی نجکاری ریکارڈ کیسے غائب ہوا۔ نجکاری دستاویزات غائب ہونے میں کون کون ملوث ہیں؟ کمیشن نے ذمہ دار حکام کیخلاف انکوائری رپورٹ 25 مارچ تک طلب کرلی۔تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ اگر ریکارڈ غائب ہوا تو دوبارہ مرتب کیا جائے۔ کمیشن نے تمام وفاقی اداروں سے ریکارڈ مرتب کرانے کا بھی حکم دیا ہے۔حکم نامے میں کہا گیا کہ وزرات نجکاری نے جواب میں کہا کہ ریکارڈ دستیاب نہیں۔ کمیشن نے ابزوریشن نے دیتے ہوئے کہا ہے کہ کیا کے ای ایس سی نجکاری ریکارڈ جان کر ضائع کیا گیا۔ کے ای ایس سی نجکاری کا ریکارڈ غائب ہونا مجرمانہ فعل ہے۔سماعت چیف انفارمیشن کمشنر محمد اعظم کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ممبران میں فواد ملک اور زاہد عبداللہ شامل تھے۔ نجکاری دستاویزات حاصل کرنے کے لیے طارق منصور ایڈووکیٹ نے کمیشن سے رجوع کر رکھا ہے۔
کے ای ایس سی نجکاری کا ریکارڈ غائب ہونے کی تحقیقات کا حکم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *