International

PAK CHINA GILGIT FINACE

پاک چین اقتصادی راہداری کے عظیم منصوبے کے معاشی ثمرات سامنے آنا شروع ہوگئے، سمندر پار پاکستانیوں نے گلگت بلتستان میں سی پیک کی وجہ سے پیدا ہونے والے امکانات سے فائدہ اٹھانے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کا آغاز کردیا جس کے تحت پہلے مرحلے میں 10 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔
یہ سرمایہ کاری گلگت سے لے کر پاک چین بارڈرکے علاقے سوست تک کی جارہی ہے۔ سی پیک کے تحت مواصلات کا نظام بہتر ہونے، موٹرویز کی تعمیر اور شاہراہِ قراقرم کی تعمیرسے پاکستان میں ڈومیسٹک سیاحت میں ہر سال تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔
اوورسیز پاکستانیوں پر مشتمل گرین لینڈ کارپوریشن نامی کمپنی نے گلگت بلتستان میں آئندہ پانچ سال میں ایک کروڑ ڈالر کی پہلی بڑی غیرملکی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے جو لاجسٹکس، سیاحت، ہوٹلنگ، ایگری کلچر اینڈ لائیو اسٹاک، پھولوں کی کاشت کے شعبوں میں کی جائے گی پاک گرین لینڈ کارپوریشن نے اب تک 20 لاکھ ڈالر کے منصوبوں کی بنیاد رکھ دی ہے اور تمام سرمایہ قانونی طور پر حکومت کی فراہم کردہ سہولتوں سے استفادہ کرتے ہوئے براہ راست بینکنگ کے ذریعے پاکستان لایا جارہا ہے۔
کمپنی نے گلگت بلتستان میں اپنے منصوبوں کے لیے لینڈ بینکنگ شروع کردی ہے جہاں جلد ہی ہوٹل، ایگری کلچر فارمز تعمیر کیے جائیں گے اور مقامی کمیونٹی کے اشتراک اور تعاون سے گلگت بلتستان میں پیدا ہونے والی زرعی مصنوعات، پھل، خشک میوہ جات، دودھ سے تیار مصنوعات، یاک کے گوشت اور ٹراؤٹ فارمنگ کو جدید پیمانے پر استوار کرنے کے لیے سرگرمیاں شروع کی جائیں گی۔ہ مصنوعات انٹرنیشنل مارکیٹ میں ایکسپورٹ کی جائیں گی جس سے گلگت بلتستان کی ترقی کی رفتار تیز بنانے کے ساتھ پاکستان کی معیشت کو بھی مضبوط بنانے میں مدد ملے گی تفریحی اور سیاحتی سہولتوں میں سوات کی طرز پر زپ لائن کی تنصیب اور دریا میں چلنے والی تیز رفتار واٹر جیٹ کشتی کی سہولت سرفہرست ہیں۔ زپ لائن لگانے کے لیے موزوں جگہ کا انتخاب کیا جارہا ہے جبکہ دنیا کی تیز رفتار واٹر جیٹ بوٹ چلانے کی منصوبہ بندی مکمل ہوچکی ہے۔ یہ بوٹ ترکی میں تیار کی جارہی ہے جس میں امریکی کمپنی کے تیار کردہ طاقتور جیٹ انجن نصب ہیں۔اس طرز کی سیاحتی سرگرمی دنیا کے گنے چنے ملکوں میں کی جاتی ہے جن میں نیوزی لینڈ، امریکا، چین، کوریا، آسٹریلیا اور بھارت شامل ہیں۔ پاکستان میں جدید اور تیز رفتار واٹر جیٹ بوٹ رواں سال موسم گرما کے سیاحتی سیزن میں متعارف کرادی جائیگی اور اس کے لیے ہنزہ کے علاقے میں دریا کا مخصوص حصہ کا انتخاب کیا جاچکا ہے۔
واٹر جیٹ بوٹ مارچ میں پاکستان پہنچ جائے گی اور مئی کے مہینے میں ہنزہ آنے والے سیاح تیز رفتار واٹر جیٹ بورڈ کی ایڈوینچر سے بھرپور سواری سے لطف اندوز ہوسکیں گے۔ بوٹ میں 350 ہارس پاور کے دو انجن نصب ہوں گے جن کے ذریعے بوٹ کو 45ناٹیکل مائلز فی گھنٹہ کی رفتار سے چلایا جاسکتا ہے ۔
گلگت بلتستان کی انتظامیہ اور عوام نے ان اقدامات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے سراہا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *