Pakistan

ALI SADPARA

معروف کوہ پیما علی سدپارہ اور ان کی ٹیم کے ٹو کی بلندی سے واپس نہ لوٹ سکی، جب کہ گزشتہ روز سے ان کا اپنے اہل خانہ، ٹیم اور کیمپ سے رابطہ بھی منقطع ہوچکا ہے۔کےٹو سرکرنے کی مہم کےدوران لاپتہ ہونے والے محمدعلی سدپارہ سمیت تین کوہ پیماؤں سے دوسرے دن بھی رابطہ نہ ہوسکا۔ تلاش کیلئے پاک فوج کا سرچ آپریشن آج بھی جاری رہے گا۔مہم جو کےبیٹے ساجدعلی سدپارہ کیمپ ون پر پہنچ گئے۔۔جون سنوری اور جے پی موہر کیلئے بھی دعا کی اپیل۔مزید تفصیلات اس رپورٹ میں
معروف کوہ پیما علی سدپارہ اور ان کی ٹیم کے ٹو کی بلندی سے واپس نہ لوٹ سکی، جب کہ گزشتہ روز سے ان کا اپنے اہل خانہ، ٹیم اور کیمپ سے رابطہ بھی منقطع ہوچکا ہے۔ دنیا کے دوسرے بلند ترین پہاڑ کے ٹو کو سرد موسم میں سر کرنے کی کوشش کرنے والے پاکستان کے معروف کوہ پیما محمد علی سدپارہ اور ان کی ٹیم کا کو کوئی سراغ نہیں مل سکا، پاک آرمی کے ہیلی کاپٹرز نے ان کی تلاش میں 7000 میٹر کی بلندی تک پرواز کی، لیکن علی سدپارہ اور ٹیم کی تلاش میں تاحال کوئی کامیابی نہیں ملی۔
علی سد پارہ اور ان کی ٹیم انتہائی بلندی پر پہنچ گئے تھے، تاہم گزشتہ روز سے ان کا اپنے اہل خانہ، بیس کیمپ اور ٹیم سے رابطہ منقطع ہوگیا تھا، ان کی ٹیم میں شامل غیر ملکی کوہ پیماؤں کا تعلق آئس لینڈ اور چلی سے ہے، جب کہ علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سد پارہ بحفاظت کیمپ ون میں پہنچ گئے ہیں، اور انہیں لینے کے لیے بیس کیمپ سے ٹیم روانہ ہوگئی ہے
واضح رہے کہ پاکستانی کوہ پیما محمد علی سدپارہ نے حال ہی میں ایک اور اعزاز اپنے نام کرتے ہوئے یورپ کی بلند ترین چوٹی مونٹ بلانک سر کی تھی، اس سے قبل مونٹ بلانک چوٹی 1976 میں سرکی گئی تھی، یورپ کی بلند ترین چوٹی مونٹ بلانک 4808 میٹر بلند ہے، جب کہ محمد علی سدپارہ 8 ہزار میٹر بلند کے ٹو، گشہ بروم 1، گشہ بروم 2، براڈ پیک، نانگا پربت، مناسلو اور دیگر چوٹیاں سر کر چکے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *