Pakistan, recent_main

SSGC SINDH

سندھ بھر میں گیس کا بحران شدت اختیار کر گیا جس سے گھریلو صارفین سمیت کمرشل سیکٹر کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ سندھ ہائی کورٹ نے گیس کی قلت پر ڈائریکٹر سوئی سدرن گیس کمپنی کو طلب کرتے ہوئے وضاحت مانگ لی ہے۔
مزید تفصیلات اس رپورٹ میں ترجمان سوئی سدرن کیس کمپنی کا بیان سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے گیس کی کمی کے حوالے سے واضح وجوہات بتائی ہیں۔ترجمان کا کہنا ہے کہ ایس ايس جی سی کےگیس سسٹم میں موصول ہونےوالی گیس کی مقدارمیں کمی کے باعث گھریلو صارفین، کمرشل سیکٹر کی طلب پوری کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ سردیوں کے موسم میں گیس کی مقدار میں40ایم ایم سی ایف ڈی کی کمی واقع ہوئی ہے اور کم گیس ملنے کی سبب لائن پیک متاثر ہوا ہے۔انہوں نے بتایا ہے کہ کراچی کےجوعلاقےنیٹورک کےآخرمیں ہیں وہاں کم پریشر ہو سکتا ہے تاہم گھریلواورکمرشل صارفین کی طلب پوری کرنےکی کوشش کی جارہی ہیں۔ترجمان نے واضح کیا ہے کہ کوشش ہےلوڈ مینیجمنٹ کے ذریعے گیس کی کمی کو پورا کیا جا سکے گھریلو صارفین کو گیس کی ترسیل پوری کی جا سکے۔دوسری جانب سندھ ہائی کورٹ میں کراچی میں گیس کی قلت کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی، درخواست گزار محمود اختر نقوی کا موقف تھا کہ گیس کی لوڈ شیڈنگ سے لوگوں کی زندگی اجیرن ہوچکی ہے، گھروں میں گیس نہیں جس کی وجہ سے روٹی بھی تندور سے لا رہے ہیں، 9 دسمبر 2020 کو عدالت نے جواب طلب کیا مگر جواب بھی نہیں دیا جا رہا، ایم ڈی سوئی سدرن گیس کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا جائے۔ جس پر فاضل جج نے ریمارکس دیئے کہ ڈائریکٹر ایس ایس جی سی کو بلا رہے ہیں اور پوچھتے ہیں قلت کیوں ہے۔عدالت نے حکم دیا کہ سوئی سدرن گیس کمپنی حکام آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں پیش ہوں، بتایا جائے کراچی میں گیس کی کمی کیوں ہے اور گیس کی قلت ختم کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *