International, recent_main

MICK PENSE ADRESS

امریکا کے سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو نے الزام عائد کیا ہے کہ ایران عالمی دہشت گرد تنظیم القاعدہ کا نیا مرکز بن چکا ہے۔ پومپیو نے کہا کہ ایران اور القاعدہ کے مابین 2015 کے بعد سے تعلقات بہتر ہونا شروع ہوئے۔مزید تفصیلات اس رپورٹ میں
واشنگٹن میں نیشنل پریس کلب سے خطاب کرتے ہوئے پومپیو نے کہا کہ القاعدہ نے تہران کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنا لیا ہے اور تنظیم کے سربراہ ایمن الظواہری کے کئی نائبین ایرانی دارالحکومت میں موجود ہیں۔
پومپیو نے کہا کہ ایران اور القاعدہ کے مابین 2015 کے بعد سے تعلقات بہتر ہونا شروع ہوئے ، جس وقت امریکا اور دیگر مغربی قوتوں کے ساتھ اس کا جوہری معاہدہ طے پارہا تھا۔ اس کے بعد سے ایران نیا افغانستان بن چکا ہے اور القاعدہ کے مرکز کی صورت میں یہ اس سے بھی بدترین ثابت ہوگا کیوں کہ افغانستان میں تو القاعدہ پہاڑوں اور ویرانوں میں کام کرتی تھی، لیکن یہاں اسے ایرانی حکومت کی چھتر چھایا حاصل ہوجائے گی۔آئندہ ہفتے تک اپنے عہدے سےسبکدوش ہونے والے سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو نے کہا کہ پوری دنیا کو تہران پر اپنا دباؤ بڑھانا ہوگا تاہم انہوں نے کسی فوجی کارروائی سے محتاط رہنے کا عندیہ دیا۔ واضح رہے کہ امریکی وزیر خارجہ نے اپنے الزامات اور دعوے سے متعلق کوئی ثبوت تاحال فراہم نہیں کیا۔
اُدھر ایران نے امریکی سیکریٹری خارجہ کے بیان کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ کیوبا سے لے کر ایران کے ’راز افشا‘ کرنے اور القاعدہ جیسے دعوؤں سے امریکی وزیر دفاع اپنی تباہ کُن مدت کو جنگ کے لیے مشتعل کرنے والی کذب بیانی پر ختم کررہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *