Pakistan

IMRAN KHAN FOUJ MUKHALIF

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ یقین رکھیں کہ فوج مخالف بیانات دینے والے تمام لوگوں کا علاج ہوگا اور اداروں پر حملے کرنے والوں کو نہیں چھوڑا جائے گا۔مزید تفصیلات اس رپورٹ میں
کوئٹہ میں ڈیجیٹل میڈیا نمائندگان سے گفتگو میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ خواجہ آصف وزیر دفاع اور وزیر خارجہ ہوتے ہوئے باہر کی ایک کمپنی کی ملازمت کررہا تھا جب کہ نوازشریف، احسن اقبال اور خواجہ آصف نے بیرون ممالک کے اقامے لے رکھے تھے، ملک کا وزیراعظم، وزیر خارجہ اور وزیر داخلہ باہر کی کمپنیوں میں ملازمت کررہے تھے، اقامے لینے کا مقصد لوٹے ہوئے پیسے کا تحفظ تھا، اقاموں کی وجہ سے بیرون ملک منتقل کی گئی رقم کی واپسی مشکل ہوجاتی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ اگر کرپٹ ٹولے کو این آر او دے دوں تو زندگی آسان ہوجائے گی، میں نے این آر او نہ دینے کے مشکل راستے کا انتخاب کیا ہے، مشرف ان دونوں جماعتوں سے بہتر تھا لیکن اس نے ان کو این آر او دے کر غلط کیا، میں نے مشرف کے دونوں این آر اوز کی مخالفت کی۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ملک نچلے طبقے کی کرپشن سے نہیں حکومت اور حکمرانوں کی کرپشن سے تباہ ہوتے ہیں، پی ڈی ایم چوروں، لٹیروں اور ڈاکوؤں کا ٹولہ ہے تاہم یہ فیصلہ کن جنگ ہے اور میں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکوں گا۔وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ کورونا کے معاملے میں اپوزیشن کی پالیسی منافقانہ تھی، کورونا کی پہلی لہر میں مجھ پر مکمل لاک ڈاؤن کا دباؤ ڈالا گیا، دوسری لہر زیادہ خطرناک ہے لیکن یہ اب جلسے جلوس کرتے پھررہے ہیں، دنیا بھر میں جہاں جلسے جلوس ہوئے وہاں کورونا تیزی سے پھیلا۔عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان انہیں جماعتوں کی وجہ سے ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں آیا، یہ ملک کو بلیک لسٹ کرانا چاہتے تھے، ایف اے ٹی ایف کے معاملے پر مجھے بلیک میل کیا گیا، مجھ سے تحریری طور پر این آر او مانگا گیا، آج زرداری اور نوازشریف اکھٹے ہوچکے ہیں، میں بہت پہلے جانتا تھا کہ یہ ایک ہوجائیں گے، ان کی کرپشن پر تو کئی ڈاکومنٹریز بن چکی ہیں اور پوری دنیا میں ان کی کرپشن کے چرچے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ یقین رکھیں کہ فوج مخالف بیانات دینے والے تمام لوگوں کا علاج ہوگا، اداروں پر حملے کرنے والوں کو نہیں چھوڑا جائے گا، یہ فوج سے کہہ رہے ہیں کہ ایک منتخب جمہوری حکومت کا تختہ الٹ دو، نوازشریف باہر بیٹھ کر فوج میں بغاوت کرانا چاہتا ہے، پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی جمہوری دور میں اداروں کو اس طرح بدنام کیا جارہا ہے، پہلے ہمیشہ مارشل لا میں فوجی قیادت پر تنقید ہوتی تھی لیکن موجودہ جمہوری دور میں فوجی قیادت کو کیوں نشانہ بنارہے ہیں، اپنی کرپشن اور لوٹ مار کو بچانے کے لیے اداروں پر دباؤ بڑھایا جارہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *