Pakistan

DG ISPR

ڈی جی آئی ایس پی آر میجرجنرل بابر افتخارکی اہم پریس بریفنگ،بریفنگ میں کہا کہ غیرملکی قوتیں داعش کوپاکستان میں پاؤ جمانے کیلئے مدد کررہی ہیں، ای یو ڈس انفولیب کی ہر پہلو سے تحقیقات کررہے ہیں،تحقیقات جلد میڈیا سے شیئر کی جائیں گی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر میجرجنرل بابر افتخار نے اہم پریس بریفنگ دیتے ہوئے کہا پریس کانفرنس کا مقصد سیکیورٹی و دیگر ملکی صورت حال کا جائزہ پیش کرنا ہے۔میجرجنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ 2020میں سیکیورٹی چیلنجز کےعلاوہ لوکسٹ، کورونا جیسی وبا نے مشکلات پیدا کیں، ایک طرف بھارت کی ایل اوسی کی خلاف ورزی جاری تھی ، دوسری طرف مشرقی سرحد پر کالعدم تنظیموں کی جانب سے کارروائیوں کا سامنا تھا، چیلنجز کے باوجود ریاست،قومی اداروں، افواج پاکستان اور عوام نے متحد ہوکر حالات کا مقابلہ کیا۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ سیکیورٹی کی مجموعی صورتحال بہت بہتر ہوئی ہے ، پاک افغان ،ایران سرحدمحفوظ بنانےکیلئے مربوط اقدام کیے، اندرونی یا بیرون خطرات ہم نےہمیشہ حقائق پر نشاندہی کی اورکامیابی سے مقابلہ کیا۔میجرجنرل بابر افتخار نے کہا کہ آج تمام قبائلی علاقے کے پی کا حصہ بن چکے ہیں، 2019کے مقابلے2020 میں دہشت گرد واقعات میں 45 فیصد کمی آئی ، سیکیورٹی اداروں نے 50فیصد سےزائد دہشت گردی کے واقعات ناکام بنائے، 2013 میں کرائم انڈیکس میں پاکستان چھٹے نمبر پر تھا اور 2020میں کرائم انڈیکس میں پاکستان کا نمبر103ہے۔میجرجنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ 20سالوں میں پاکستان نے دہشت گردی کیخلاف کامیاب جنگ لڑی اور 18ہزارسے زائد دہشت گردوں کاخاتمہ کیا گیا ، اس دوران 1200سے زائدآپریشن کے ذریعے ہر قسم کی دہشت گرد تنظیموں کاخاتمہ کیا، بھارت نے فروری 2019میں جارحیت کی ناکام کوشش کی جبکہ بین الاقوامی امن کیلئے 1100 سے زائد القاعدہ دہشتگردوں کوپکڑااورماراہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ بھارت نے مشرقی سرحد پراشتعال انگیزیوں میں اضافہ کیا، مقبوضہ کشمیرمیں ڈیڑھ سال سے تاریخ کا بدترین لاک ڈاؤن ہے، بھارت سے متعلق تمام شواہدعالمی عدالتوں اور دنیاکے سامنے رکھے گئے، حال ہی میں بھارت کے ڈس انفولیب کے ذریعے کئی شواہدسامنےآئے، جعلی نیٹ ورک کو شریواستو گروپ چلا رہا تھا، اس جعلی نیکٹ ورک میں جعلی این جی اوز بھی شامل تھیں، یہ جعلی این جی اوز دنیا کے مختلف شہروں میں پاکستان مخالف تقریبات کرتی تھی، جبکہ فیک نیوزآؤٹ لیٹ اورفیک میڈیاگروپس بھی شامل تھے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ کے پی اور بلوچستان خاص طورپردہشت گردی کا شکار رہے لیکن دونوں صوبوں میں اب ترقیاتی منصوبےجاری ہیں، بلوچستان میں کچھ عرصےسےدشمن قوتیں امن وامان خراب کرنےکےدرپرہیں، اب ہم بلڈاورٹرانسفرکےمراحل میں ہیں، بلوچستان میں199ڈیولپمنٹ پروجیکٹ جاری ہیں جبکہ کےپی قبائلی اضلاع میں 31ملین روپے کی لاگت سے 883منصوبوں پرکام شروع ہوچکا ہے۔میجرجنرل بابر افتخار نے پاکستانی میڈیا کا خصوصی شکریہ اد ا کرتے ہوئے کہا میڈیانےکوروناکےدوران عوامی آگاہی کیلئےمفادسےبالاترہوکرخدمات انجام دی اور پاکستانی میڈیا نے چیلنجزکے دوران پاکستان کودرپیش مسائل سے بھی قوم کوآگاہ کیا۔میجرجنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ میں ہمیشہ سیاسی بیان بازی سے گریزکرتاہوں ، میں نے یہ نہیں کہاں کہ تشویش نہیں ہے، فوج کا مورال اپنی جگہ قائم ہے وہ اپنا کام کررہی ہے، جس نوعیت کے الزامات لگائے جارہے ہیں ان میں کوئی وزن نہیں، پاک فوج کوحکومت وقت نے الیکشن کرانے کا کہا اور پاک فوج نے پوری ذمہ داری اور دیانتداری سے الیکشن کرائے ، شک و شبہات ہیں تو ادارے موجود ہیں ان کے پاس جانا چاہیے۔انھوں نے مزید کہا فوج کو سیاسی معاملات میں آنے کی ضرورت نہیں اور نہ فوج کو سیاسی معاملات میں گھیسٹنے کی کوشش کرنی چاہیے، فوج حکومت کاذیلی ادارہ ہے، جوبات کی گئی حکومت نے اسکا بہترین جواب دیا۔ڈی جی آئی ایس پی آر میجرجنرل بابر افتخارکی اہم پریس بریفنگ
غیرملکی قوتیں داعش کوپاکستان میں پاؤ جمانے کیلئے مدد کررہی ہیں،بابر افتخار سیکیورٹی اداروں نے 50فیصد سےزائد دہشت گردی کے واقعات ناکام بنائے، بابر افتخار فوج کو سیاسی معاملات میں آنے کی ضرورت نہیں،میجرجنرل بابر افتخار

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *