پاکستان

آڈیٹر جنرل آف پاکستان

آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے بلوچستان کے سالانہ بجٹ 20-2019 کی آڈٹ رپورٹ جاری کردی جس میں صوبے کے بجٹ میں 14ارب روپے سے زائد کی مالی بے قاعدگیوں کا انکشاف

آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ حکومت بلو چستان نے 19-2020 کے بجٹ کے دوران 34ارب روپے خر چ نہیں کیے جو کہ حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔سال 20-2019 کے دوران 3ارب روپے سے زائد اخراجات کا ریکارڈ ہی موجود نہیں تھا، آڈٹ رپورٹ میں 17 مقامات پر ایک ارب 38کروڑ روپے سے زائد رقم ریکور کرنے کی نشاند ہی کی گئی ہے جب کہ چار ایسے مقامات کی نشاندہی بھی کی گئی ہے جن میں حکومت کو ایک ارب 65کروڑ روپے سے زائد کا نقصان ہوا۔رپورٹ کے مطابق 18ایسی مثالیں موجود ہیں کہ جن میں 581.087 ملین روپے کے ٹیکسز اور ڈیوٹیز ادا نہیں کی گئیں جب کہ 2مر تبہ 39.815ملین روپے کی مشکو ک ادائیگیاں کی گئی ہیں۔آڈٹ میں حکومت کے پی ایس ڈی پی کی تشکیل کا عمل غیر مطمئن کن قرار دیا گیا ہے، آڈٹ رپورٹ میں حکومتی اخراجات کو بہتر بنانے کے لیے کوششوں کو ناکا فی قرار دیا گیا ہے جب کہ حکومت ٹیکسز اور ڈیو ٹیز بھی حاصل کرنے میں ناکام رہی۔رپورٹ میں بتایاگیا ہےکہ  کمیشن اور بھو ل چوک سے سر کا ری خز انے کو بھی نقصان پہنچا  ہے۔آڈٹیز جنرل آف پاکستان نے سفا رش کی ہے کہ بی پیپرا کی قوانین پر عملدرآمد کیا جا نا چاہیے جب کہ ریکارڈ نہ دینے والوں کے خلاف کارروائی،ذمہ داروں کے تعین اور ریکور ی کی بھی سفا رش کی گئی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *