انفوٹینمنٹ

دنیا بھر میں لوگ خود

دنیا بھر میں لوگ خود کو بہتر بنانے کے لیے بدن میں مائیکروچپس اور برقی سرکٹ کے پیوند لگاتے ہیں لیکن ایک برطانوی خاتون نے پوسٹ ہیومن بننے کے لیے گزشتہ 14 برس کے دوران اپنے بدن میں 50 مائیکروچپس، اینٹینا اور مقناطیس نصب کرائے ہیں۔

ان خاتون کا نام کسی کو نہیں معلوم لیکن وہ خود کو لیفٹ اینونِم کہتی ہیں۔ انہوں نے تمام پیوند بے ہوشی کے بغیر لگوائے ہیں اور اس کے محفوظ ہونے کی کوئی ضمانت بھی نہیں ہے لیکن وہ اپنی جسمانی کمزوریوں کو دور کرکے پوسٹ ہیومن بننا چاہتی تھیں۔ اسے ٹرانس ہیومن بھی کہا جاتا ہے یعنی انسان گوشت پوست کے ساتھ مشینوں کا مجموعہ بن جاتا ہے۔لیفٹ نے کہا کہ ’مجھے سائنس سے لگاؤ ہے اور یہ میری زندگی ہے اور میں اپنے احساسات کو بڑھانا چاہتی ہوں اور میں کہنا چاہتی ہوں کہ میری کوئی جنس بھی نہیں ہےسب سے پہلے انہوں نے 2007ء میں کریڈٹ کارڈ والی ایک چپ اپنی ہتھیلی میں لگوائی۔ اس کے بعد  لیفٹ نے اپنی انگلیوں میں چھوٹے مقناطیس اور کوائل لگوائیں جن سے وہ سینسر کو چلاتی ہیں اور یوں کسی شے اور اپنے ہاتھ کے درمیان فاصلہ معلوم کرلیتی ہیں۔سال 2019ء میں خاتون نے فائلوں کو اپ لوڈ اور ڈاؤن لوڈ کرنے کا ایک سرکٹ بازو میں لگوایا لیکن 2020ء میں  بازو کار دروازے پر لگنے سے ان کا ہاتھ سوج گیا اور تکلیف دہ انداز میں اسے جسم سے نکلوادیا گیا۔لیفٹ اینونَم کے مطابق اب تک وہ 50 آپریشن کرواچکی ہیں جس پر لاکھوں کروڑوں روپے خرچ ہوئے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *