health

صحت

غزہ میں اسرائیلی فورسز کی دہشت گردی جاری ہے۔ اسرائیلی جنگی طیاروں کی تازہ بمباری میں مزید سینتیس نہتے فلسطینی شہید ہوگئے۔ ایک ہفتے کے دوران شہید ہونےوالے افراد کی تعداد ایک سوبانوے ہوگئی۔ شہدا میں اٹھاون بچے اور چونتیس خواتین بھی شامل ہیں۔ ایک ہزار سے زائد زخمی مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ غزہ شہر ملبے کا ڈھیر بن چکاہے۔ عالمی میڈیا ہاوسزاور رہائشی عمارتیں تباہ ہوچکی ہیں۔ مظلوم فلسطینی مدد کےلیے دنیا کی طرف دیکھ رہے ہیں لیکن تاحال عالمی برداری کی جانب سے اسرائیل کو لگام ڈالنے کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات سامنے نہیں آئے۔ بے قابو اسرائیلی فورسز کو لگام نہ ڈالی جاسکی۔ غزہ میں وقفے وقفے سے خوفناک بمباری جاری ہے۔اسرائیلی فورسز نے عالمی میڈیا کے دفاتر کو بھی نہ بخشا۔کئی میڈیا دفاتر پر بم برسادییے۔ رہائشی عمارتیں بھی ملبے کا ڈھیر بن گئیں۔ غزہ میں ہر طرف چیخ و پکار سنائی دی۔اسرائیلی فضائیہ نے رات گئے حماس رہنما کے گھر پر حملہ کر کے ایک اور عمارت کو بھی زمین بوس کر دیا۔ کئی ٹن وزنی دھماکاخیز مواد برسا کر ایک سرنگ بھی تباہ کردی۔غیرملکی خبرایجنسی کے مطابق غزہ میں ایک ہفتے کے دوران ایک ہزار سے زائد گھر اور رہائشی و سرکاری عمارتیں تباہ کی جاچکی ہیں ۔ غزہ میں غذائی قلت کا بحران بھی سر اٹھانے لگا ہے۔ہزاروں فلسطینی بے گھر ہوچکے ہیں۔ اسرائیلی دہشت گردی کے باوجود غزہ کےعظیم فرزندنے شہیدمسجدکے مینارپرکھڑے ہوکراذان دی۔غزہ میں دس سالہ فلسطینی بچی نےعالمی ضمیر کو جنجھوڑ کر رکھ دیا،، نم انکھوں سے کہا اسرائیل نے فلسطینی بچوں کے خواب کچل ڈالے ،، ہماری زندگیاں اجیرن ہوچکی ہیں،حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ نے قطر میں کارکنوں اور حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیت المقدس ہم سب کی ذمہ داری ہے۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے غزہ میں عام شہریوں کی شہادت پر افسوس اور میڈیا ہاؤسز پر اسرائیلی حملے پر تشویش کا اظہارکیا ہے۔مغربی کنارے میں بیت اللحم سمیت کئی شہروں میں فلسطینیوں نے مظاہرے کئے، مظاہرین پر اسرائیلی فورسز نے طاقت کا بے دریغ استعمال کیا۔ صیہونی فورسز نے نوجوانوں پر فائرنگ کر دی جس سے متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ اسرائیلی فوجیوں نے میڈیا کے نمائندوں کوبھی دھکے دیئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *