health, Pakistan

صحت

کرونا ویکسین کی افادیت کو ایک بار پھر ایک بڑی طبی تحقیق کے ذریعے ثابت کر دیا گیا ہے، ریسرچ میں سامنے آیا ہے کہ ویکسین کی ایک خوراک سے گھر میں وائرس کے پھیلاؤ میں 50 فی صد سے زائد کمی آ جاتی ہے۔پبلک ہیلتھ انگلینڈ (پی ایچ ای) کی جانب سے شائع ہونے والی اس تحقیق میں کہا گیا ہے کہ فائزر یا آسٹرا زینیکا کی ویکسین کی ایک خوراک گھر میں ایک فرد سے دیگر افراد میں کرونا کی منتقلی کو پچاس فی صد سے بھی زیادہ کم کر دیتی ہے۔ریسرچ کے دوران یہ معلوم ہوا کہ وہ افراد جنھیں ویکسین کی پہلی خوراک دی گئی تھی، جب 3 ہفتے بعد وہ وائرس سے متاثر ہوئے تو وہ ویکسین نہ لینے والوں کی نسبت اپنے گھر والوں میں کم وائرس پھیلانے کا سبب بنے۔اس طبی تحقیق میں 24 ہزار گھروں کے 57 ہزار سے زائد افراد کے ڈیٹا کا ویکسین نہ لگوانے والے تقریباً 10 لاکھ کیسز سے تقابل کیا گیا، اور یہ نتیجہ حاصل ہوا کہ ویکسین لینے والے افراد اپنے گھروں میں ویکسین نہ لینے والوں کی نسبت نصف سے بھی کم تناسب سے وائرس پھیلاتے ہیں۔برطانوی وزیر صحت میٹ ہینکاک نے اس تحقیق کے نتائج پر بیان دیتے ہوئے اسے ایک شان دار خبر قرار دیا، اور کہا کہ ہم پہلے ہی جانتے تھے کہ ویکسین زندگیاں بچاتی ہے، تاہم یہ تحقیق حقیقی دنیا کا تفصیلی ڈیٹا ہے، جو دکھا رہی ہے کہ اس سے وائرس کا پھیلاؤ بھی کم ہوتا ہے۔میٹ ہنکاک کا کہنا تھا ریسرچ سے اس بات کو تقویت ملی ہے کہ ویکسین وبا سے نکلنے کا بہتری ذریعہ ہے، یہ آپ کی اور آپ کے گھر والوں کی حفاظت کرتی ہے۔ایک اور طبی تحقیق میں بھی یہ بات سامنے آئے تھی کہ ویکسین کی ایک خوراک کے 4 ہفتوں بعد وائرس پیدا ہونے کا خدشہ 65 فی صد سے زائد کم ہو جاتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *