Pakistan

صنعتی قرض اسٹیٹ بینک

صنعتی شعبے کی بحالی کے حکومتی دعوؤں کے برعکس متعدد صنعتیں بینکوں سے لیے گئے قرض کی ادائیگی میں ناکام ہوگئیں
اسٹیٹ بینک کے مطابق جنوری تا مارچ کی سہ ماہی کے دوران بینکوں کے نان پرفارمنگ لون (NPLs ) 5.5فیصد بڑھ کر 850.30 ارب روپے ہوگئے۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس کے مطابق جولائی تا مارچ کے عرصے میں گذشتہ مالی سال کی اسی مدت کی نسبت بڑے پیمانے کی پیداوار ( لارج اسکیل مینوفیکچرنگ) میں 9 فیصد اضافہ ہوا۔
پاک کویت انویسٹمنٹ کمپنی کے ریسرچ ہیڈ سمیع اﷲ طارق نے ایکسپریس ٹریبیون سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کووڈ 19 کی صورتحال میں معاشی سرگرمیاں سست پڑنے کی وجہ سے نان پرفارمنگ قرضوں میں اضافہ ہوا ہے۔ جو نئی کمپنیاں بینکوں کو قرضوں کی ادائیگی میں ناکام رہیں انھوں نے مرکزی بینک کی اسکیم کے تحت اپنے قرضے ری شیڈول کرانے سے گریز کیا ہوگا۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق مارچ 2020 میں اسکیم کے اجرا کے بعد سے 16اپریل 2021ء تک کاروباری اداروں اور کمپنیوں نے مجموعی طور پر 910.6 ارب روپے کے قرضے موخر اور ری شیڈول کرائے۔
سمیع اﷲ طارق کا کہنا تھا کہ اگر بینچ مارک انٹرسٹ ریٹ نچلی سطح پر رہتا ہے اور ملک میں اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ ملتا ہے تو بینک نان پرفارمنگ قرضوں کی ریکوری میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *