Pakistan

SOPs عید

عید کےموقع پر ایس اوپیز پرعمل درآمد کیلئے سخت اقدامات کا فیصلہ کیاگیاہےپنجاب میں آٹھ سے سولہ مئی تک مکمل لاک ڈاؤن ہوگا،سندھ میں اتوار سے لاک ڈاؤن لگےگا،ملک کے دیگرصوبوں میں بھی لاک ڈاؤن سے متعلق سخت اقدامات کے احکامات جاری کردیے گئے ہیں۔ چاند رات پر نہ تو چوڑیوں اور مہندی کے اسٹال لگیں گے نہ عید کی چھٹیوں میں ہوٹلنگ اور تفریحی مقامات پرجانےکا موقع ملے گا عوام کوعیدسادگی سےمنانےاورچھٹیاں گھروں پرگزارنے کا مشورہ پنجاب حکومت کاآٹھ سےسولہ مئی تک مکمل لاک ڈاؤن کا فیصلہ اشیائے ضروریہ کی دکانیں بھی صرف شام چھ بجے تک کھلی رہیں گی پبلک ٹرانسپورٹ اور سیاحتی مقامات مکمل بند رہیں گے ۔سندھ میں اتوار سے عید کی چھٹیوں تک مزید سختی کیلئے ہدایت جاری پرچون کی دکانوں کے اوقات کار شام چھ بجے تک محدود پبلک ٹرانسپورٹ پرپابندی کااعلان اندرون شہر چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ پابندی سےمستثنیٰ قرار دی گئی ہیں۔خیبرپختونخوا میں بھی تمام کاروباری سرگرمیاں بند رکھنےکافیصلہ صوبےبھرمیں سیاحتی مقامات بند رہیں گے بی آرٹی سروس بھی 8مئی سے سولہ مئی تک معطل رہےگی بلوچستان میں بھی آٹھ سے سولہ تک کاروباری،تفریحی سرگرمیوں پرپابندی چاندرات کوبازار،جیولری،مہندی،کپڑوں کی دکانیں بند رہیں گی تفریحی مقامات،ہوٹلزوٹرانسپورٹ کی نقل وحرکت پرپابندی۔آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان حکومت نے بھی عوام کی نقل وحرکت محدود کرنےکےلیےاحکامات جاری کردیئے ہیں این سی او سی کے نوٹیفیکیشن کے مطابق 8سے16مئی تک لاک ڈاؤن کےدوران میڈیکل سروسز، فارمیسیز، پیٹرول پمپس، فوڈ ٹیک اویز کی اجازت ہوگی۔ بجلی، گیس، ای کامرس،انٹرنیٹ، سیلولرکمپنیز،کال سینٹرز، تندور اور میڈیا ہاؤسز 24 گھنٹے کھلے رکھنے کی اجازت ہوگی۔گروسری اسٹورز، جنرل اسٹورز، مٹھائی کی دکانیں، بیکریز،گوشت کی دکانیں،آٹاچکیاں، فروٹ،سبزی کی دکانیں صبح 9 بجےسےشام 6 بجےتک کھل سکیں گی۔ہرقسم کےاسپورٹس، ثقافتی تہواراوراجتماعات پر مکمل پابندی ہو گی۔ٹرین سروس کل گنجائش کے70 فیصدمسافروں کے ساتھ جاری رہے گی۔ بین الصوبائی اور شہروں کی مقامی ٹرانسپورٹ مکمل طورپربندہوگی۔ تاہم رکشا، ٹیکسی اورپرائیویٹ گاڑیوں کوپچاس فیصد گنجائش کے ساتھ سفر کرنے کی اجازت ہوگی۔مختلف شہروں کے درمیان ٹرانسپورٹ کوصرف 2 دن ہفتہ اوراتوارکوپچاس فیصد گنجائش کے ساتھ کام کرنے کی اجازت ہوگی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *