International

افغان امریکہ

طالبان کے ساتھ طے پانے والے امن معاہدے کی پاسداری کرتے ہوئے نیٹو افواج نے افغانستان سے انخلا کا آغاز کردیا۔ نیٹو حکام نے مزید کہا کہ اولین ترجیح ہمارے فوجیوں کی محفوظ راستوں کے ذریعے اپنے ملکوں کو بحفاظت روانگی ہے اور ہم اپنے اہلکاروں کو نقصان سے بچانے کے لئے تمام ضروری اقدامات اٹھا رہے ہیں عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیٹو اتحادیوں نے رواں ماہ کے وسط میں افغانستان سے انخلا کا فیصلہ کیا تھا جس پر عمل درآمد کرتے ہوئے اب غیر ملکی فوجیوں کی واپس اپنے ملکوں کو روانگی کا آغاز ہوگیا ہے۔نیٹو حکام نے افغانستان سے ریزولوٹ سپورٹ مشن فورسز کی واپسی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ فوجیوں کے مکمل انخلا کے عمل کو چند مہینوں میں مکمل کرلیں گے تاہم انہوں نے فوجی دستوں کی تعداد اور واپسی کی ٹائم لائن کے بارے میں تفصیل دینے سے انکار کردیا۔نیٹو حکام نے مزید کہا کہ اولین ترجیح ہمارے فوجیوں کی محفوظ راستوں کے ذریعے اپنے ملکوں کو بحفاظت روانگی ہے اور ہم اپنے اہلکاروں کو نقصان سے بچانے کے لئے تمام ضروری اقدامات اٹھا رہے ہیں اور اگر طالبان نے حملے کیئے تو بھرپور جواب دیں گے۔یہ خبر پڑھیں: امریکا کا اپنے سفارت کاروں کو فوجی دستوں کا انخلا شروع ہوتے ہی کابل چھوڑنے کا حکم
قبل ازیں امریکا کے نئے صدر جو بائیڈن نے اعلان کیا تھا کہ 11 ستمبر تک اپنی تمام افواج کو افغانستان سے واپس بلا لے گا۔ افغانستان میں اس وقت امریکا کے ڈھائی ہزار فوجی اہلکار تعینات ہیں۔افغانستان میں 7 اکتوبر 2001 کو غیر ملکی افواج کی تعیناتی کا آغاز ہوا تھا اور 20 دسمبر 2001 کو اقوام متحدہ کی اجازت کے بعد عالمی سلامتی معاونت فورس میں نیٹو کے 43 اتحادی اور شراکت دار بھی شامل ہوئے اور اس وقت افغانستان میں 36 ممالک کے 9 ہزار 592 فوجی اہلکار تعینات ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *