Pakistan

شہزاد اکبر

وزیراعظم کے مشیر برائے داخلہ و احتساب شہزاد اکبر نے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے سابق ڈی جی بشیر میمن سے معافی مانگنے کا مطالبہ کردیا اور 50 کروڑ روپے ہرجانے کا قانونی نوٹس بھجوا دیا۔مشیرداخلہ و احتساب شہزاد اکبر نے کہا کہ ایف آئی اے کی کوئی ٹیم میری زیرنگرانی کام نہیں کرتی تھی نہ کررہی ہے، جہانگیر ترین کے خلاف کارروائی شوگرکمیشن کی رپورٹ پر کی جا رہی ہے ، جہانگر ترین کا معاملہ سیاسی نہیں قانونی ہے، احتساب کا عمل بلا امتیاز کیاجارہاہے، جہانگیر ترین کے خلاف الزامات غلط ثابت ہوئے تومجھے خوشی ہوگی۔شہزاد اکبر نے کہا کہ کسی افسر کو ٹرانسفر نہیں کیا گیا ، کیس کھولنے کا فیصلہ صرف سپریم جوڈیشل کونسل کرتاہے ،نواز شریف ،اسحاق ڈار کی طرح ملزم نہیں مجرم ہیں، نوازشریف کو سزا بھگتنے کیلئے پاکستان آناہے، برطانوی حکومت سے نواز شریف کو بے دخل کرنے کو کہا ہواہے، برطانیہ نےنوازشریف کی حوالگی سےانکارنہیں کیا،معاملہ چل رہاہے، میری اطلاع کے مطابق اسحاق ڈاربرطانیہ میں سیاسی پناہ لے چکے ہیں ۔شہزاداکبر نے کہا کہ ایف آئی اے میں کسی افسرکوٹرانسفرنہیں کیاگیا، ڈاکٹررضوان لاہور زون کے پہلے بھی ڈائریکٹر تھے اب بھی ہیں۔خیال رہے کہ گزشتہ روز جیو کے پروگرام ’آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے بشیر میمن نے کہا تھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف انکوائری کیلئے شہزاد اکبر نے انہیں کہا اور فروغ نسیم نے ان کی حمایت کی۔بشیر میمن کا کہنا تھاکہ وزیر اعظم عمران خان نے مجھے کہاکہ ہمت کریں، آپ کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں نے بہت سمجھانے کی کوشش کی کہ ایف آئی اے کے ضابطہ کار میں ایسے نہیں کیا جاسکتا، یہ کام سپریم جوڈیشل کونسل کا ہے۔بشیر میمن نے کہا کہ پولیس قانون نافذ کرنے والا ادارہ ہے، غیر قانونی کام کیسے کرسکتا ہے؟ وہ بھی ایک جج کے خلاف؟ بشیر میمن نے انکشاف کیا ہے کہ مجھ پر نوازشریف، شہبازشریف، مریم نواز، حمزہ شہباز، شاہد خاقان، رانا ثنا، مریم اورنگزیب، خواجہ آصف، خورشید شاہ، مصطفیٰ نوازکھوکھر، اسفند یار ولی اور امیر مقام کو گرفتار کرنے کیلئے دباؤ ڈالا جاتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ جب اعتراض اٹھایا کہ گرفتاری کیلئے ثبوت ہونے چاہئیں تو کہا گیا کہ فی الحال پکڑ لو بعد میں دیکھیں گے، ریمانڈ لیں گے، پھر عدالت میں اس کو ثابت کریں گے۔بشیر میمن نے کہا کہ خود وزیر اعظم نے انھیں کہا کہ سعودی شہزادہ محمد بن سلمان تو جو کہتا ہے وہ ہوجاتا ہے، آپ اعتراضات کرتے ہیں جس پر انھیں جواب دیا تھا کہ سعودی عرب میں بادشاہت ہے، پاکستان میں جمہوریت ہے ، صرف گرفتار کرنا نہیں جرم بھی ثابت کرنا ہوتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *